28ویں ترمیم میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ، دوہرے ووٹ کا حق دینے کی اپیل

پاکستانی اقلیتوں کے حقوق اور 28ویں آئینی ترمیم پر ندیم مٹو کا بیان

شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ کے وائس چیئرمین ندیم مٹو کا اقلیتوں کے حقوق پر اہم بیان


پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل انتہائی سنگین ہیں، جبری تبدیلی مذہب، وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں پر تشویش اور اقلیتوں کے انتخابی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شہباز بھٹی ورکرز موومنٹ پاکستان کے وائس چیئرمین ندیم مٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی مسیحی برادری اور دیگر مذہبی اقلیتیں اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں، مگر تاحال انہیں مکمل برابری کے حقوق حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم میں پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ندیم مٹو نے کہا کہ اقلیتوں کے موجودہ سلیکشن سسٹم کو ختم کرکے براہ راست الیکشن اور دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے تاکہ مذہبی اقلیتیں اپنے حقیقی نمائندے منتخب کر سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آئین پاکستان تمام شہریوں کو برابر قرار دیتا ہے تو پھر سیاسی جماعتیں اقلیتوں کے حقوق پر دوہرا معیار کیوں اپناتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور آئینی ادارے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ 28ویں ترمیم میں پاکستانی اقلیتوں کے جائز مطالبات کو شامل کیا جائے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم