
ashraf john sandhu kamalia.jpeg
کمالیہ (نمائندہ نوائے مسیحی) ڈسٹرکٹ کرسچن پیس کونسل کے ضلعی رہنما اشرف جان سندھو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں میں مسیحی وزراء کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسیحی قیادت نے برادری سے صرف پروٹوکول لیا، مگر اختیارات ہونے کے باوجود مسیحی نوجوان بے روزگار رہے اور ان کے مسائل جوں کے توں برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی عبادت گاہوں اور کرسچن قبرستان کمالیہ کے حوالے سے مختلف جلسہ عام میں بڑے بڑے اعلانات کیے گئے، لیکن آج تک ان وعدوں پر عملی کام نظر نہیں آیا۔
اشرف جان سندھو نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مسیحی عوام Maryam Nawaz کے اس فیصلے کو سراہتی ہے کہ انہوں نے ایک محنتی اور بہادر شخصیت کو اقلیتی امور کی وزارت سونپی، جو اقلیتوں کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور Ramesh Singh Arora نے گزشتہ دو برسوں کے دوران پنجاب بھر میں مسیحی برادری کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے، مگر ماضی میں کئی مسیحی وزراء نے مسیحی عوام کو صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ڈسٹرکٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں استقبالیے اور ترقیاتی سکیموں کے اعلانات تو کیے گئے، لیکن بعد میں عوام کو نظر انداز کر دیا گیا۔
اشرف جان سندھو نے کہا کہ سردار رمیش سنگھ اروڑا کی دو سالہ کارکردگی سابقہ مسیحی وزراء سے کہیں بہتر ثابت ہوئی ہے اور پنجاب بھر سمیت ڈسٹرکٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مسیحی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہر مثبت کاوش کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں قومی ہم آہنگی، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا: “زندہ باد پاکستان، پائندہ باد پاکستان۔”
إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation