شیریں جناح کالونی واقعہ، کمسن بچی مقدس کے پوسٹ مارٹم میں تشدد کے آثار نہیں ملے، حتمی رپورٹ کا انتظار


کراچی: شیریں جناح کالونی سے ملنے والی دو کمسن بچیوں کے کیس میں ایک بچی مقدس دورانِ علاج انتقال کر گئی، جس کے بعد علاقے میں افسوس اور تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقدس کی میت سول ہسپتال کراچی سے ضروری کارروائی کے بعد ایدھی سرد خانے سہراب گوٹھ منتقل کی گئی، جہاں سے آبائی علاقے تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خان پنجاب روانہ کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے منورٹی افیئرز روما مشتاق مٹو متاثرہ خاندان کے ہمراہ موجود رہیں اور انہوں نے تمام انتظامی امور اپنی نگرانی میں مکمل کروائے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم کے کسی حصے پر تشدد یا جسمانی و جنسی زیادتی کے واضح آثار نہیں ملے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی نتیجہ لیبارٹری ٹیسٹ، کیمیکل اینالیسس، ہسٹوپیتھالوجی اور ڈی این اے رپورٹس آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچی ٹائپ ون ذیابیطس کی مریضہ تھی، جس کو بھی ایک اہم میڈیکل فیکٹر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے اور حتمی رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔ اس وقت تک کسی بھی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم