
پیرا کی 1,000 آسامیوں میں 5 فیصد اقلیتی کوٹے کے عدم اطلاق پر سوالات
فیصل آباد: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی جانب سے سرجنٹس اور سرجنٹ ڈرائیورز کی 1,000 آسامیوں پر اقلیتی کوٹے کے اطلاق کا معاملہ زیرِبحث آگیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق پیرا نے 500 سرجنٹس اور 500 سرجنٹ ڈرائیورز کی آسامیوں کے لیے اقلیتی کوٹہ صفر یعنی ’’نِل‘‘ رکھا۔ پیرا کے 25 ستمبر 2026 کے تحریری جواب کے مطابق اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں بھرتیوں میں خصوصی کوٹہ نہ رکھنے سے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ سرجنٹس اور سرجنٹ ڈرائیورز کی بھرتی کے لیے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے لیے پیش کی گئی اور 8 اپریل 2026 کو منظوری حاصل کی گئی۔ پیرا کے مطابق مذکورہ 1,000 آسامیوں کو اوپن میرٹ پر مشتہر کیا گیا اور کسی بھی مخصوص زمرے کے لیے کوٹہ مختص نہیں کیا گیا، تاہم اقلیتی امیدواروں سمیت دیگر امیدوار اوپن میرٹ پر مقابلے میں حصہ لے سکتے تھے۔
اس معاملے پر سول سوسائٹی کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پنجاب سے پیرا کی بھرتیوں میں 5 فیصد اقلیتی ملازمت کوٹے کے عدم اطلاق کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے متعلقہ منظوریوں، بھرتی کے ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لینے کی درخواست بھی کی ہے۔
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹے کی پالیسی موجود ہے، جبکہ اقلیتوں کے سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے میں بھی کوٹے کے نفاذ سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں۔ دستیاب سرکاری و بین الاقوامی دستاویزات میں بھی اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمت کوٹے کا ذکر موجود ہے۔
پیرا کے معاملے میں بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ آیا وزیراعلیٰ کی منظوری کسی مخصوص بھرتی میں عمومی اقلیتی کوٹے سے استثنا دینے کے لیے کافی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے یا اس کے لیے الگ قانونی یا پالیسی اختیار درکار تھا۔ اس سوال کا حتمی جواب متعلقہ سرکاری ریکارڈ، بھرتی پالیسی اور قانونی تشریح کی روشنی میں ہی سامنے آسکتا ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پیرا کی بعض سابقہ بھرتیوں میں اقلیتی نشستیں مختص کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے مطابق 2025 میں 154 پراسیکیوٹرز کی بھرتی میں 8 اور 101 سب ڈویژنل انفورسمنٹ افسران کی بھرتی میں 5 نشستیں اقلیتوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔
دوسری جانب نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن نے معاملے کو دیکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ کمیشن کے لاہور ریجنل دفتر کے ایک عہدیدار کے مطابق درخواست موصول ہوچکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد آئندہ مرحلے میں متعلقہ ریکارڈ اور قانونی حیثیت مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation