
Statement by Christian journalist Shakeel Anjum Sawan condemning Trump remarks about Pope Leo and AI image controversy.
دنیا کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے والے بیانیے کی ضرورت ہے۔

بھمبر:بانی و چیئرمین نوائے مسیحی، ممتاز مسیحی صحافی، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور سماجی رہنما شکیل انجم ساون نے Donald Trump کے حالیہ متنازعہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ Pope Leo XIV ایک عالمی روحانی پیشوا کی حیثیت سے انسانیت، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام دیتے آئے ہیں، جو دنیا بھر کے کروڑوں مسیحیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
انسانیت اور محبت کا پیغام نظر انداز
شکیل انجم ساون نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے پوپ کے مثبت پیغام کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کے بجائے اپنی مخصوص سوچ کے مطابق ردعمل دیا، جو کہ ایک عالمی شخصیت کے شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
“ٹرمپ ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ پوپ لیو چہاردھم کا پیغام انسانیت اور محبت کے وسیع تر تناظر میں ہے، جسے نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔”
یسوع مسیح کے روپ میں پیش ہونا — قابلِ مذمت اقدام
انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے خود کو Jesus Christ کے روپ میں پیش کرنا ایک نہایت حساس اور مذہبی طور پر قابلِ اعتراض عمل ہے۔
“یسوع مسیح کا پیغام عاجزی، محبت، قربانی اور اجتماعی فلاح پر مبنی تھا، نہ کہ ذاتی تشہیر یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے۔”
پوپ کا کردار قابلِ تحسین
انہوں نے زور دیا کہ پوپ لیو چہاردھم اپنے منصب اور ذمہ داری کو بہترین انداز میں نبھا رہے ہیں، اور ایک بڑے مذہب کے روحانی پیشوا کو ایسا ہی ہونا چاہیے جو امن، برداشت اور محبت کو فروغ دے۔
واضح مذمت
آخر میں شکیل انجم ساون نے کہا:
“میں ٹرمپ کےعزت مآب پوپ لیو چہاردھم کے حوالے سے متنازعہ بیان اور اس طرزِ عمل کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ دنیا کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے والے بیانیے کی ضرورت ہے۔”
إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation