افریقہ کا سفر، امن کا پیغام اور سیاست سے بالاتر چرچ کی آواز

Pope Leo XIV delivering peace message during Africa visit
افریقہ میں پوپ کا امن، اتحاد اور ایمان کا پیغام

✍️ اداریہ (شکیل انجم ساون)

دنیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر آواز کو سیاست کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں جب Pope Leo XIV افریقہ کے دورے پر نکلتے ہیں اور امن، بھائی چارے اور ایمان کی بات کرتے ہیں تو بدقسمتی سے کچھ حلقے اسے بھی سیاسی رنگ دینے سے باز نہیں آتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف ایک غلط فہمی نہیں بلکہ ہمارے دور کی ایک بڑی کمزوری ہے—ہم روحانیت کو بھی سیاست کے شیشے سے دیکھنے لگے ہیں۔

پوپ لیو چہار دہم نے جس وضاحت کے ساتھ یہ کہا کہ ان کا مقصد کسی سیاسی رہنما، خاص طور پر Donald Trump کے ساتھ بحث کرنا نہیں، بلکہ مسیحی ایمان کو مضبوط کرنا ہے، وہ دراصل ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ پیغام صرف امریکہ یا یورپ کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے—خاص طور پر ان معاشروں کے لیے جہاں مذہب کو اکثر سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

افریقہ کا یہ دورہ محض ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔ Cameroon جیسے ملک میں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کو دیکھنا اور اسے “افریقہ کا دل” قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چرچ آج بھی اتحاد اور تنوع دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

مجھے خاص طور پر وہ پہلو متاثر کرتا ہے جہاں پوپ مختلف مذاہب کے رہنماؤں، خاص طور پر مسلمانوں کے اماموں سے ملاقات کرتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں نفرت، تقسیم اور انتہا پسندی سے نکال کر مکالمے، برداشت اور بھائی چارے کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کی بنیاد Pope Francis نے رکھی اور آج اسے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پوپ نے افریقہ میں دولت کی غیر مساوی تقسیم جیسے حساس مسئلے کو بھی اٹھایا۔ یہ محض ایک معاشی بات نہیں بلکہ ایک اخلاقی سوال ہے—کیا ہم واقعی انصاف پر مبنی دنیا چاہتے ہیں یا صرف طاقت اور وسائل کے بل بوتے پر چلنے والی دنیا؟

افریقہ کے اس سفر میں ایک اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسیحیت صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک عملی زندگی ہے—جہاں انصاف، محبت، اور امن کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

جب پوپ کہتے ہیں کہ وہ انجیل کا پیغام جاری رکھیں گے، تو یہ دراصل ہم سب کے لیے ایک دعوت ہے۔ ایک دعوت کہ ہم اپنے اپنے معاشروں میں امن کے سفیر بنیں، نفرت کے مقابلے میں محبت کو فروغ دیں اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی بات کریں۔

آخر میں، Angola کی طرف بڑھتا ہوا یہ سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ چرچ کی اصل طاقت سیاست میں نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں کو جوڑنے میں ہے۔

یہ اداریہ صرف ایک خبر پر تبصرہ نہیں، بلکہ ایک سوال بھی ہے—
کیا ہم واقعی اس پیغام کو سننے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں؟

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم