نابینا مسیحی بیوہ کی بیٹی سے زیادتی ایم پی اے عمانوئیل اطہر جولیس کی آمد، انصاف کا مطالبہ



 ننکانہ صاحب (رپورٹ: ذیشان گل جوئیہ، نوائے مسیحی نیوز)
اندھی بیوہ ماں کی بیٹی کے ساتھ ظلم! ننکانہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ، انصاف کا مطالبہ زور پکڑ گیا


ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے ولی پور بوڑا شاہکوٹ میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مسیحی نابینا بیوہ ماں کی کمسن بیٹی مبینہ طور پر جنسی درندگی کا نشانہ بن گئی۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی مسیحی برادری بلکہ پورے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔


واقعہ کیسے پیش آیا؟

ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 11 اپریل 2026 کو صبح تقریباً 8 بجے پیش آیا۔ متاثرہ لڑکی "سویرا" کو ملزم محمد فیضان اپنے رکشے پر لیموں کے باغ میں دیہاڑی کے لیے لے گیا، جہاں وہ مزدوری کر رہی تھی۔


شام کے وقت جب سویرا پانی پینے کے لیے نلکے پر گئی تو ملزم محمد فیضان اور اس کے ایک نامعلوم ساتھی نے اسے زبردستی پکڑ لیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزمان نے اسلحہ کے زور پر اسے ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ہاتھ باندھ دیے اور منہ میں کپڑا ٹھونس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔


بیہوشی کی حالت میں گھر پھینک دیا گیا

واقعے کے بعد ملزمان متاثرہ لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں اس کے گھر کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ گھر والوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی اور اسے شاہکوٹ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی تشویشناک حالت کے پیش نظر فوری طبی امداد فراہم کی۔


اگلے دن جب لڑکی کو ہوش آیا تو اس نے روتے ہوئے اپنے والدین کو سارا واقعہ بتایا، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش پھیل گئی۔


مسیحی قیادت کا فوری ایکشن

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی ایم پی اے عمانوئیل اطہر جولیس نے اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ذیشان گل جوئیہ کے ہمراہ ایس پی انویسٹی گیشن ننکانہ صاحب سے ملاقات کی۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ:

ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے

متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے

انصاف کے عمل کو شفاف بنایا جائے

اقلیتی برادری میں بڑھتا خوف


مقامی مسیحی برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلوں، خصوصاً ماریہ شہباز کیس کے بعد ایسے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔


اطہر جولیس نے اعلیٰ حکام اور عدلیہ سے اپیل کی کہ:

"مسیحی بچیوں کو بھی اسی طرح تحفظ دیا جائے جیسے دیگر شہریوں کو دیا جاتا ہے، اور ایسے کیسز میں فوری اور سخت انصاف فراہم کیا جائے۔"


انصاف کا مطالبہ

متاثرہ خاندان اور مسیحی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں

مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے

اقلیتی برادری کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم