![]() |
| مسیحی برادری کا عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج |
بھمبر (نمائندہ خصوصی، نوائے مسیحی) آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر میں واقع بے داغ مریم کیتھولک چرچ کی مقامی کیتھولک مسیحی کمیونٹی نے"نابالغ مسیحی لڑکی کے نکاح سے متعلق عدالتی فیصلہ"کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔
احتجاج میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگوں سمیت مسیحی برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر جبری مذہب تبدیلی، کم عمری کی شادیوں اور نابالغ مسیحی بچیوں کے اغواء کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے شدید نعرے بازی بھی کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریورنڈ فادر خاور محبوب (اوایم آئی) نے میڈیا سے گفتگو میں کہا "جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل پاکستان میں مسیحی برادری شدید تشویش اور اضطراب کا شکار ہے۔ حالیہ قانون اور عدالتی فیصلوں کی وجہ سے ہماری نابالغ بچیوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، جس کے تحت کم عمری میں نکاح کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ بھمبر کی تمام کلیسیا پاکستان بھر کی مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس قانون کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر اس قانون پر نظرثانی کرے تاکہ مسیحی برادری کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور ان کی بچیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ریورنڈ فادر خاور محبوب (او ایم آئی) نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسیحی برادری پاکستان کا ایک پرامن اور محب وطن حصہ ہے اور انہیں بھی دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق اور تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں اس ملک میں عزت اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔”
احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری تبدیلی مذہب، کم عمری کی شادیوں اور اقلیتی بچیوں کے اغواء جیسے سنگین مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔


ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation