
rotest in Karachi against attacks on churches after blasphemy allegation 2023
نوائے مسیحی نیوز:پنجاب میں توہینِ مذہب کے الزام کے تحت مسیحی خاندان کے تحفظ کا مطالبہ
گوجرانوالہ میں زمین کے تنازعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش

تحقیق و تحریر شکیل انجم ساون
25 فروری 2026 کو جاری ہونے والی ایک اہم رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم Human Rights Focus Pakistan (HRFP) نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرانوالہ کے رہائشی مسیحی خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے جن پر توہینِ مذہب (Blasphemy Allegation) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ الزام ایک مبینہ پراپرٹی ڈسپیوٹ (Property Dispute) کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور اسے غیر قانونی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق تنظیم کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ
HRFP کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے متاثرہ شخص سرور مسیح، ان کے اہل خانہ، پڑوسیوں، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اور شواہد اکٹھے کیے۔ رپورٹ کے مطابق:
خاندان گزشتہ 70 سال سے اسی جگہ رہائش پذیر ہے
ملکیت کے حوالے سے کبھی کوئی عدالتی مقدمہ یا قانونی تنازعہ موجود نہیں رہا
پڑوسیوں نے بھی گواہی دی کہ جائیداد اسی خاندان کی ہے
پچاس سالہ مسلمان پڑوسی محمد شاہد نے بھی تصدیق کی کہ وہ بچپن سے اس خاندان کو جانتے ہیں اور یہ جائیداد انہی کی ملکیت ہے۔
مذہبی جذبات کو استعمال کرنے کا الزام
رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر پڑوسی کی جانب سے:
احتجاجی ریلی نکالی گئی
مذہبی بینرز آویزاں کیے گئے
قرآنِ مجید کی آیات کے نعرے لگائے گئے
مدینہ منورہ کی تصاویر جائیداد پر لگائی گئیں
ان اقدامات کا مقصد زمین کے تنازعے کو مذہبی معاملہ ظاہر کرنا بتایا گیا ہے۔
23 فروری کو مبینہ طور پر یہ دھمکی دی گئی کہ اگر کسی نے دروازہ کھولا یا مذہبی مواد ہٹانے کی کوشش کی تو اسے توہینِ مذہب کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور پورے علاقے کو جلا دیا جائے گا۔
ماضی کے واقعات اور موجودہ خدشات
پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، جن کے تحت عمر قید سے لے کر سزائے موت تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں کئی افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں، تاہم کسی کو سرکاری طور پر پھانسی نہیں دی گئی۔
اگست 2023 میں مشرقی پنجاب کے علاقے جڑانوالہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں توہینِ مذہب کے الزام کے بعد متعدد گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ اس واقعے کے خلاف Karachi میں بھی 16 اگست 2023 کو سول سوسائٹی اور مسیحی برادری نے احتجاج کیا۔
موجودہ کیس کے حوالے سے مقامی مسیحی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشیدگی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
تنظیم کا مطالبہ
HRFP کے صدر نوید والٹر نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جہاں زمین پر قبضہ کرنے کے لیے توہینِ مذہب کے الزامات کا سہارا لیا گیا ہو۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ:
متاثرہ خاندان کو فوری سیکیورٹی فراہم کی جائے
غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں
جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے
ہماری دعا اور اپیل
بطور مسیحی کمیونٹی ہم دعا گو ہیں کہ خداوند اس خاندان کو اپنے جلالی حصار میں محفوظ رکھے اور ملک میں انصاف، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے۔
ہم حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation