📰 تازہ ترین

 

اردن کا عقابہ چرچ: کیا واقعی یہ دنیا کا قدیم ترین مسیحی گرجا گھر ہے؟

 

Aqaba Church Jordan oldest known purpose-built Christian church
اردن کے شہر عقابہ میں موجود قدیم مسیحی چرچ، جسے دنیا کا قدیم ترین معلوم شدہ باقاعدہ تعمیر شدہ مسیحی چرچ قرار دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض اوقات ایسی تاریخی معلومات سامنے آتی ہیں جو چند ہی لمحوں میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک معلومات اردن کے شہر عقابہ میں موجود ایک قدیم مسیحی عبادت گاہ کے بارے میں ہے، جسے بعض پوسٹس میں ’’دنیا کا سب سے قدیم گرجا گھر‘‘ اور بعض جگہ ’’1730 سال پرانا چرچ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

میں نے اس دعوے کو صرف ایک دلچسپ سوشل میڈیا معلومات سمجھ کر آگے بڑھانے کے بجائے تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے دستیاب شواہد کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعوے کے پیچھے واقعی ایک انتہائی اہم تاریخی حقیقت موجود ہے، تاہم الفاظ کے درست استعمال کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

یہ چرچ کہاں واقع ہے؟

یہ قدیم چرچ اردن کے جنوبی شہر عقابہ میں واقع ہے۔ عقابہ بحیرۂ احمر کے کنارے ایک تاریخی اور تجارتی شہر ہے۔ قدیم زمانے میں اس علاقے کو آئیلہ (Aila) کہا جاتا تھا اور رومی دور میں یہاں ایک منظم مسیحی برادری موجود ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔

اردن کے سرکاری سیاحتی ذرائع کے مطابق عقابہ میں دریافت ہونے والے اس چرچ کی تعمیر کا ابتدائی مرحلہ 293ء سے 303ء کے درمیان قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رومی سلطنت میں مسیحیت کو ابھی سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

کیا یہ واقعی 1730 سال پرانا ہے؟

اگر تعمیر کا زمانہ تقریباً 293ء سے 303ء تسلیم کیا جائے تو 2026ء میں اس عمارت کی عمر تقریباً 1723 سے 1733 سال بنتی ہے۔

اس لیے ’’تقریباً 1730 سال پرانا‘‘ کہنا ایک قابلِ فہم اندازِ بیان ہے۔ تاہم اسے کسی ایک بالکل درست عمر کے طور پر بیان کرنے کے بجائے ’’تقریباً 1730 سال قدیم‘‘ کہنا زیادہ محتاط اور صحافتی طور پر بہتر ہے۔

اصل مسئلہ عمر سے زیادہ اس بات کا ہے کہ اسے ’’دنیا کا سب سے قدیم چرچ‘‘ کس معنی میں کہا جا رہا ہے۔

دنیا کا سب سے قدیم چرچ؟ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے

گنیز ورلڈ ریکارڈز عقابہ چرچ کو دنیا کا قدیم ترین معلوم شدہ Purpose-Built Christian Church قرار دیتا ہے۔ یعنی ایسا چرچ جو شروع ہی سے مسیحی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ گنیز کے مطابق یہ عمارت تقریباً 290ء کی دہائی میں تعمیر ہوئی۔

یہ وضاحت بہت اہم ہے، کیونکہ دنیا میں اس سے بھی قدیم مسیحی عبادت کے مقامات کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان میں سے بعض عمارتیں ابتدا میں چرچ کے طور پر تعمیر نہیں ہوئی تھیں۔

مثلاً شام کے قدیم شہر دورا یوروپوس میں ایک گھر کو بعد میں مسیحی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس کی تاریخ عقابہ چرچ سے بھی پہلے کی بتائی جاتی ہے، لیکن وہ عمارت ابتدا ہی سے چرچ کے مقصد کے لیے تعمیر نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عقابہ چرچ کو قدیم ترین معلوم شدہ باقاعدہ تعمیر شدہ مسیحی چرچ کہا جاتا ہے۔

یعنی سادہ الفاظ میں:

’’قدیم ترین مسیحی عبادت کی جگہ‘‘ اور ’’قدیم ترین باقاعدہ چرچ کی عمارت‘‘ ایک ہی بات نہیں۔

ماہرین کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ چرچ تھا؟

یہ سوال بھی اہم ہے کہ تقریباً سترہ سو سال پرانی کسی کھنڈر نما عمارت کے بارے میں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ چرچ تھا؟

آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے عمارت کے نقشے، سمت، تعمیراتی انداز اور یہاں سے ملنے والی اشیا کو بنیاد بنایا۔

تحقیق کے مطابق عمارت کا رخ مشرق کی طرف تھا اور اس کا نقشہ ایک ابتدائی مسیحی باسیلیکا سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس میں مرکزی عبادت گاہ کے ساتھ اطراف میں راستے اور مشرقی جانب مخصوص حصہ موجود تھا۔

کھدائی کے دوران شیشے کے چراغوں کے ٹکڑے، مٹی کے برتن اور دیگر آثار بھی ملے۔ قریب ہی ایک قدیم قبرستان دریافت ہوا، جہاں 24 انسانی ڈھانچے بھی ملے۔ ایک قبر سے کانسی کی صلیب کا ٹکڑا بھی دریافت ہوا، جو اس مقام کی مسیحی نسبت کے اہم شواہد میں شمار ہوتا ہے۔

یہ چرچ کب دریافت ہوا؟

اس عمارت کے آثار کی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی 1998ء میں ہوئی۔ تحقیق کی قیادت North Carolina State University کے ماہرِ آثارِ قدیمہ S. Thomas Parker نے کی۔

آثارِ قدیمہ کے شواہد سے چرچ کی تعمیر کا زمانہ تیسری صدی عیسوی کے آخری حصے یا چوتھی صدی کے آغاز تک پہنچتا ہے۔ عمارت کی کچھ دیواریں تقریباً 4.5 میٹر تک محفوظ حالت میں ملی تھیں۔

کیا یہ چرچ آج بھی استعمال ہوتا ہے؟

نہیں، موجودہ شکل میں یہ عبادت کے لیے استعمال ہونے والا فعال چرچ نہیں بلکہ ایک آثارِ قدیمہ کا تاریخی مقام ہے۔

تحقیقی شواہد کے مطابق یہ چرچ زیادہ عرصہ استعمال میں نہیں رہا۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق عمارت کو 363ء میں آنے والے زلزلے نے تباہ کر دیا، جس کے بعد یہ مقام ترک ہوگیا۔ مٹی اور ریت نے وقت کے ساتھ عمارت کے بعض حصوں کو ڈھانپ لیا، جس سے اس کے آثار محفوظ رہنے میں مدد ملی۔

ایک چرچ جو مسیحی تاریخ کے انتہائی اہم دور کی گواہی دیتا ہے

میرے نزدیک اس مقام کی اہمیت صرف اس کی عمر میں نہیں بلکہ اس تاریخی دور میں ہے جس میں یہ تعمیر ہوا۔

اگر اس کی تعمیر واقعی 290ء کی دہائی میں ہوئی تو یہ اس دور کی یادگار ہے جب رومی سلطنت میں مسیحیوں کو سرکاری مذہبی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ گنیز کے مطابق یہ چرچ شہنشاہ ڈیوکلیٹین کی 303ء سے شروع ہونے والی بڑی مسیحی مخالف کارروائیوں سے بھی پہلے تعمیر ہوچکا تھا۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم آئیلہ کے ایک بشپ کی 325ء میں نائسیا کی کونسل میں شرکت کا تاریخی حوالہ بھی ملتا ہے۔ اس سے اس خطے میں موجود ابتدائی مسیحی برادری کی تنظیم اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

تو پھر درست بات کیا ہے؟

میری نظر میں اس موضوع پر سب سے محتاط اور درست جملہ یہ ہوگا:

’’اردن کے شہر عقابہ میں تقریباً 290ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والا چرچ دنیا کا قدیم ترین معلوم شدہ باقاعدہ مسیحی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا چرچ ہے، جس کی عمر آج تقریباً 1730 سال بنتی ہے۔‘‘

اسے محض ’’دنیا کا سب سے قدیم چرچ‘‘ کہنا مکمل طور پر غلط نہیں، لیکن اس میں ایک اہم تاریخی وضاحت چھپ جاتی ہے۔ زیادہ درست بات ’’دنیا کا قدیم ترین معلوم شدہ Purpose-Built Christian Church‘‘ کہنا ہے۔

تاریخ کے معاملے میں ایک لفظ بھی پوری بات کا مفہوم بدل سکتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ہمیں تاریخی معلومات کو صرف دلچسپ بنا کر نہیں بلکہ ثبوت، حوالوں اور ضروری وضاحت کے ساتھ قارئین تک پہنچانا چاہیے۔

یہ صرف ایک پرانی عمارت کے کھنڈرات نہیں بلکہ ابتدائی مسیحی تاریخ کا ایک اہم مادی ثبوت ہے، جو ہمیں تقریباً سترہ سو سال پیچھے لے جاتا ہے۔

— شکیل انجم ساون
کالم نگار | صحافی | سماجی کارکن
نوائے مسیحی — ہر مسیحی کی آواز

واٹس ایپ چینل جوائن کریں — تازہ ترین خبریں سب سے پہلے پائیں

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی
×