![]() |
| سندھ پولیس کی ہندو خاتون افسر منیشا روپیتا |
کراچی(رپورٹ؛ عامر جاوید ، کوآرڈینیٹر نوائے مسیحی) سندھ پولیس کی ہندو خاتون افسر منیشا روپیتا نے پولیس سروس میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی کے بعد پولیس سروس اختیار کرنے والی منیشا روپیتا 2022 میں پاکستان کی پہلی ہندو خاتون بنیں جنہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس، یعنی ڈی ایس پی، کا عہدہ حاصل کیا۔
لیکن منیشا روپیتا کی کہانی صرف ایک سرکاری عہدہ حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ ان کے پولیس سروس میں آنے کا فیصلہ، امتحان میں نمایاں پوزیشن اور بعد میں اقلیتی برادریوں سے متعلق ذمہ داریاں ان کے سفر کو مزید قابلِ توجہ بناتی ہیں۔
وہ امتحان جس نے منیشا روپیتا کے لیے نیا راستہ کھولا
منیشا روپیتا کا تعلق سندھ کے جیکب آباد سے ہے۔ وہ ابتدا میں طب کے شعبے میں جانے کی خواہش رکھتی تھیں، لیکن میڈیکل داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان کی تیاری کی۔
2019 کے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی عمل میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں منیشا روپیتا نے 16ویں پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس سروس کا انتخاب کیا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی توجہ کا باعث بنا کہ ان کے خاندان میں تعلیم کے بعد طب کے شعبے کو ترجیح دی جاتی تھی، جبکہ منیشا نے پولیس سروس کا مختلف راستہ اختیار کیا۔
پولیس یونیفارم تک پہنچنے والی پہلی ہندو خاتون
2022 میں منیشا روپیتا پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی کے طور پر سامنے آئیں۔ اس وقت ان کی عمر 26 سال تھی اور ان کی تقرری سندھ پولیس میں ہوئی۔
ان کی کامیابی نے پولیس سروس میں خواتین اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کی شرکت کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کی۔
منیشا روپیتا نے اپنے ایک بیان میں پولیس سروس کو خواتین کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور پولیس فورس میں صنفی مساوات کی حوصلہ افزائی سے جوڑا تھا۔
2026 میں اقلیتی برادریوں سے متعلق اہم ذمہ داری
منیشا روپیتا کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا ایک اہم پہلو اقلیتی برادریوں سے متعلق امور بھی رہا ہے۔
مارچ 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وہ سندھ پولیس کے اقلیتی سیل کی چیئرپرسن کی حیثیت سے اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور معاونت سے متعلق اقدامات پر بات کرتی رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے اقلیتی برادریوں کی مدد کے لیے ایک کمیٹی اور اقلیتی مشاورتی ڈیسک سمیت مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔
یہ ذمہ داری اس لیے بھی اہم ہے کہ پولیس اور اقلیتی برادریوں کے درمیان رابطے، شکایات کے ازالے اور قانونی تحفظ سے متعلق امور میں ادارہ جاتی رابطہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
منیشا روپیتا کی کہانی میں نوجوان خواتین کے لیے کیا پیغام ہے؟
منیشا روپیتا کی پیشہ ورانہ زندگی کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرکاری سروس میں خواتین مختلف شعبوں کا انتخاب کرسکتی ہیں اور اپنی تعلیم و صلاحیت کو عوامی خدمت کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔
ان کی کہانی میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ انہوں نے روایتی طور پر خواتین سے وابستہ سمجھے جانے والے شعبوں کے بجائے پولیس سروس کا انتخاب کیا۔
2024 میں ان سے متعلق ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی کہانی سے ان کی برادری کی مزید لڑکیوں کو بھی پولیس سروس اختیار کرنے کی ترغیب ملے۔
عوامی خدمت اور اقلیتی تحفظ
ایک پولیس افسر کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطے میں بھی پولیس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
منیشا روپیتا نے پولیس سروس میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے اور عوامی خدمت سے متعلق امور میں کام کیا۔ 2026 میں اقلیتی سیل سے متعلق ان کی ذمہ داری نے انہیں اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کا ایک اہم حصہ بھی بنایا۔
ایک سفر جو ابھی جاری ہے
جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کا سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے پولیس افسر بننا اور پھر پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی کے طور پر سامنے آنا منیشا روپیتا کے سفر کا اہم حصہ ہے۔
اب ان کی پیشہ ورانہ شناخت پولیس سروس کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادریوں سے متعلق ذمہ داریوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ سرکاری اداروں میں خواتین اور اقلیتی برادریوں کی نمائندگی عوامی خدمت کے مختلف شعبوں میں نئے راستے کھول سکتی ہے۔
نوائے مسیحی کی جانب سے منیشا روپیتا کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ دعا ہے کہ خداوند انہیں مستقبل میں بھی دیانت داری، حکمت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation