شہید ذیشان مسیح – پاکستان رینجرز کے بہادر مسیحی سپوت کی قربانی | Nawaye Masihi



شہید ذیشان مسیح وطن پر قربان، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
کراچی/حیدرآباد: پاکستان رینجرز کے جوان شہید ذیشان مسیح نے 27 جون 2026 کی شب کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران وطن کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ حملے کے دوران شہید ذیشان مسیح اور ان کے ساتھیوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس کارروائی میں تین اہلکار شہید ہوئے، جن میں ذیشان مسیح بھی شامل تھے۔
شہید ذیشان مسیح 21 نومبر 1992 کو حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر 9، جے آر کالونی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ علامہ اقبال اسکول سے حاصل کی اور 21 نومبر 2019 کو پاکستان رینجرز میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کراچی کے گلستانِ جوہر رینجرز کیمپ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
شہید اپنے والدین، اہلیہ نمرہ ذیشان اور چار بچوں کے سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج، فرض شناس اور عبادت گزار انسان تھے۔ ان کا تعلق چرچ آف پاکستان سے تھا اور چھٹیوں میں باقاعدگی سے عبادت کے لیے چرچ جاتے تھے۔
29 جون 2026 کو انہیں ان کے آبائی علاقے جے آر کالونی، حیدرآباد میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان رینجرز کے اعلیٰ افسران، مسیحی برادری، مقامی شہریوں اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ توپوں کی سلامی پیش کر کے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
شہید کے والد یونس برکت مسیح نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ اس نے اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنی مسیحی برادری کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ وطن کی خاطر جان قربان کرنا سب سے بڑا اعزاز ہے۔"
شہید ذیشان مسیح کی قربانی اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسیحی برادری نے ہمیشہ وطن کے دفاع، امن اور سلامتی کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ پوری قوم شہید کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم