قصور ایک بڑے مذہبی تنازع سے محفوظ، بروقت مصالحتی اقدامات سے مسیحی و مسلم برادری میں صلح، امن برقرار

قصور میں مسیحی اور مسلم برادری کے درمیان مصالحت، بروقت اقدامات سے امن برقرار
قصور میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد صلح، امن و امان برقرار

 دو روز قبل ضلع قصور کی تحصیل کھڈیاں میں دو رکشہ ڈرائیوروں کے درمیان ہونے والا ایک معمولی ذاتی جھگڑا بروقت دانشمندانہ اقدامات کے باعث ایک بڑے مذہبی تنازع میں تبدیل ہونے سے بچ گیا۔ ایک رکشہ ڈرائیور کا تعلق مسیحی برادری جبکہ دوسرے کا تعلق مسلم برادری سے تھا۔

ابتدائی طور پر یہ معاملہ صرف ایک ذاتی اختلاف تھا، تاہم بعد میں چند شرپسند عناصر نے اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر متعدد مسیحی خاندانوں نے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے عارضی طور پر اپنے گھروں سے نکلنا مناسب سمجھا۔


سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر فوری مصالحتی کمیٹی تشکیل

صورتحال کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر ان کے بھائی ملک اعجاز احمد خان اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے داؤد شریف سہوترا کی سربراہی میں ایک مصالحتی کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی نے فوری طور پر دونوں فریقین سے رابطہ کیا اور انہیں سپیکر پنجاب اسمبلی کی رہائش گاہ پر مدعو کیا، جہاں دونوں جانب کے مؤقف کو تحمل اور سنجیدگی سے سنا گیا۔


بات چیت کے ذریعے خوش اسلوبی سے معاملہ حل

باہمی مذاکرات، افہام و تفہیم اور بردباری کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرا دی گئی۔ اس کامیاب مصالحت کے نتیجے میں ایک ممکنہ مسیحی مسلم مذہبی تنازع بروقت ختم ہوگیا اور ضلع قصور کو ایک بڑے انتشار اور ممکنہ سانحے سے محفوظ رکھا گیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے معاملات کو بروقت نہ سنبھالا جائے تو نہ صرف مقامی امن متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔


ضلعی انتظامیہ کا کردار بھی قابل تحسین

اس پورے معاملے میں امن و امان برقرار رکھنے، کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچانے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے بھی مؤثر کردار ادا کیا۔

خصوصی طور پر ڈی پی او قصور، ایس ایچ او کھڈیاں اور میثاق سینٹر کی بروقت کارروائی اور انتظامی حکمت عملی کو مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا گیا، جس کے باعث صورتحال قابو میں رہی اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ ممکن ہوا۔


عوام کا امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے مثبت کردار کو خراج تحسین

علاقے کے عوام نے ملک اعجاز احمد خان اور داؤد شریف سہوترا کی مصالحتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے حساس معاملات کو برداشت، مکالمے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے گا تاکہ معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور امن کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی