![]() |
| میاں چنوں میں ماریا شہباز کیس کے خلاف احتجاجی ریلی |
خانیوال( رپورٹ:اے ڈی ساحل منیر ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر نوائے مسیحی) پاکستان میں اقلیتی کمیونیٹیز سے تعلق رکھنے والی نابالغ بچیوں کے اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اور جبری نکاح کے بڑھتے ہوئے واقعات بالخصوص لاہور سے تعلق رکھنے والی نابالغ مسیحی بچی ماریا شہباز کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات کے پیشِ نظر امرت نگر میاں چنوں میں دی سالویشن آرمی چرچ کے زیر اہتمام ایک پُرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔اس
ریلی میں خواتین، مردوں، بزرگوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جو اس حساس اور اہم مسئلے پر اقلیتی برادری کی گہری تشویش اور اجتماعی آواز کی عکاسی کرتی ہے۔ شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نابالغ بچیوں کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور جبری تبدیلیٔ مذہب کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔
اس موقع پر کور آفیسر میجر الیاس مسیح، بشارت شہزاد گل اور اے ڈی ساحل منیر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ اقلیتی برادری کی نابالغ بچیوں کو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیل کروانا اور ان کا نکاح کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کی بھی صریحاً نفی ہے۔
مقررین نے ماریا شہباز کیس میں آنے والے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے معاشرے میں غلط رجحانات کو فروغ دے سکتے ہیں اور کمزور طبقات کے تحفظ کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر قانون سازی کرے جس میں غیر مسلم نابالغ بچیوں کی جبری تبدیلیٔ مذہب اور نکاح کو واضح طور پر قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے۔
ریلی کے اختتام پر ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری، امن و امان اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation