![]() |
| FIR registered in suspicious death case of young Christian man March 2026 Punjab |
سرگودھا (رپورٹ؛ سلمان منسی )چک نمبر 36 جنوبی سرگودھا کی ایک خاموش صبح اچانک ایک ایسے واقعے کی خبر میں بدل گئی جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا۔ 21 سالہ مرقس مسیح کی لاش ڈیرے کے واڑہ میں گارڈر سے لٹکی ہوئی ملی، اور ابتدائی اطلاع خودکشی کی دی گئی۔ مگر چند گھنٹوں بعد ہی منظر بدل گیا جب بڑے بھائی نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے باضابطہ مقدمہ درج کرا دیا۔ کیا یہ واقعی خودکشی تھی، یا کہانی میں کوئی ایسا پہلو ہے جو ابھی سامنے آنا باقی ہے؟ پوری تفصیل جاننے کے لیے رپورٹ پڑھیں۔
واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟
4 مارچ 2026 کو صبح تقریباً 10 بجے چک نمبر 36 جنوبی (تھانہ کڑا نہ کی حدود سے تقریباً 6 کلو میٹر جنوب) میں ایک 21/22 سالہ نوجوان مرقس مسیح کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی اور متوفی کا پوسٹ مارٹم THQ چک نمبر 90 جنوبی سے کروایا گیا۔
بعد ازاں متوفی کے بڑے بھائی دلشاد مسیح ولد سردار مسیح، رہائشی چک نمبر 50 شمالی سرگودھا نے تحریری درخواست دے کر قتل کا شبہ ظاہر کیا، جس پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔
________________________________________
درخواست گزار کا مؤقف
ایف آئی آر کے متن کے مطابق دلشاد مسیح نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا چھوٹا بھائی مرقس مسیح چک نمبر 36 جنوبی میں محمد محسن اور محمد بشارت (پسران یار محمد قوم کھرل) کے ڈیرے پر ملازمت کرتا تھا۔
درخواست کے مطابق 4 مارچ کو صبح تقریباً 10 بجے محمد بشارت نے اطلاع دی کہ مرقس نے خودکشی کر لی ہے۔
دلشاد مسیح نے بیان دیا کہ وہ رزاق مسیح اور مالک نیاز کے ہمراہ موقع پر پہنچے تو مرقس مسیح کو ڈیرے کے واڑہ میں گارڈر کے ساتھ لٹکا ہوا پایا۔ انہیں نیچے اتارا گیا لیکن وہ وفات پا چکے تھے۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ محمد محسن اور محمد بشارت نے ان کے بھائی کو قتل کر کے خودکشی کا تاثر دینے کی کوشش کی۔
________________________________________
قانونی کارروائی
درخواست موصول ہونے کے بعد پولیس نے دفعات 302 (قتل) اور 34 (مشترکہ نیت) تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ باقاعدہ درج کر کے تفتیشی افسر کو بھجوا دیا گیا ہے اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ متعلقہ افسران کو ارسال کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
________________________________________
پس منظر
پولیس ریکارڈ کے مطابق اس واقعہ پر پہلے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی گئی تھی، جو عام طور پر مشکوک یا غیر طبعی اموات کی ابتدائی قانونی جانچ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اب بھائی کی تحریری درخواست کے بعد واقعے کو قتل کے شبے کے تحت دوبارہ دیکھا جا رہا ہے۔
________________________________________
اہم سوالات
• کیا یہ واقعہ واقعی خودکشی تھا یا قتل؟
• پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا ظاہر کرتی ہے؟
• کیا شواہد درخواست گزار کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئیں گے۔
________________________________________
دعا اور اپیل
کمیونٹی حلقوں نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ہم دعا گو ہیں کہ سچ سامنے آئے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation