راولپنڈی ہائیکورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سابق کرنل کو بری کر دیا — فیصلہ کیوں آیا؟

Rawalpindi-High-Court-Acquits-Retired-Army-Officer-Blasphemy-Case
Rawalpindi-High-Court-Acquits-Retired-Army-Officer-Blasphemy-Case


 راولپنڈی(نوائے مسیحی نیوز) توہینِ مذہب کے ایک حساس مقدمے میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہائیکورٹ نے شواہد اور پولیس تفتیش پر سوالات اٹھاتے ہوئے کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے سابق فوجی افسر کو بری کر دیا۔

اس سے قبل راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے مذکورہ سابق افسر کو توہینِ مذہب کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ ابتدا میں ایک معمولی لڑائی جھگڑے سے شروع ہوا، جو بعد ازاں توہینِ مذہب کے الزام میں تبدیل ہو گیا۔

پاکستان میں ماضی میں بھی توہینِ مذہب کے ایسے متعدد مقدمات سامنے آتے رہے ہیں جن میں بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ تنازع کی اصل وجہ مذہبی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی، چپقلش یا باہمی جھگڑا تھا۔ نومبر 2020 میں خوشاب میں اپنے ہی بینک منیجر کو قتل کرنے والے سکیورٹی گارڈ کا واقعہ ہو یا سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کا قتل، ایسے واقعات اس رجحان کی واضح مثالیں ہیں۔

مذکورہ مقدمہ جب ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت آیا تو عدالت نے پولیس کی تفتیش، شواہد اور مقدمے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد سابق فوجی افسر کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔


Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم