![]() |
تحریر و تحقیق شکیل انجم ساون چیئرمین نوائے مسیحی انٹرنیشنل
پاکستان کی تحریکِ آزادی میں مسیحی برادری کا کردار اور ان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ ایک ایسا تاریخی موضوع ہے جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں آج بھی بحث ہوتی ہے۔
اس سوال کے دو پہلو ہیں: ایک تاریخی پس منظر اور دوسرا موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں مستقبل کا پیش خیمہ۔
۱. کیا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ درست تھا؟
تاریخی طور پر، قیامِ پاکستان کے وقت مسیحی قیادت (جیسے کہ دیوان بہادر ایس پی سنگھا) نے مسلم لیگ اور محمد علی جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس فیصلے کی چند اہم وجوہات تھیں:
جناح کا نظریہ: مسیحی قیادت قائدِ اعظم کے اس وعدے پر یقین رکھتی تھی کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو برابری کے حقوق ملیں گے اور ریاست کا مذہب سے تعلق نہیں ہوگا۔ 11 اگست 1947 کی تقریر ان کے لیے ایک مضبوط ضمانت تھی۔
سماجی تحفظ: اس وقت کی مسیحی قیادت کا خیال تھا کہ ایک بڑی ہندو اکثریت والے ملک کے مقابلے میں، مسلمانوں کے ساتھ ان کے سماجی اور مذہبی روابط (اہلِ کتاب ہونے کی بنیاد پر) زیادہ بہتر رہ سکتے ہیں۔
باوقار کردار: قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں مسیحی برادری نے تعلیم، صحت اور دفاع (پاک فضائیہ اور فوج) میں غیر معمولی خدمات سرانجام دیں، جس سے ثابت ہوا کہ وہ ملک کا ایک اٹوٹ انگ ہیں۔
تاہم، بعد کے برسوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور مخصوص قوانین کی وجہ سے اس کمیونٹی کو تحفظات اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر، مسیحی برادری نے پاکستان کو اپنا گھر مانا اور اس کی ترقی میں خون پسینہ صرف کیا۔
۲. انڈیا کے موجودہ حالات اور مستقبل کا پیش خیمہ
ہندوستان میں حالیہ برسوں میں "ہندوتوا" کی لہر اور اقلیتوں (خصوصاً مسلمانوں اور مسیحیوں) کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات نے خطے کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے۔
مذہبی تبدیلی کے قوانین: انڈیا کی کئی ریاستوں میں تبدیلیِ مذہب کے خلاف سخت قوانین لائے گئے ہیں جن کا نشانہ اکثر مسیحی مشنریز اور کمیونٹی بنتی ہے۔
سیکیورٹی کے خدشات: چرچوں پر حملے اور سماجی بائیکاٹ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس نے سیکولر انڈیا کے امیج کو متاثر کیا ہے۔
مستقبل کا رخ: اگر انڈیا میں قوم پرستی کی یہی لہر جاری رہتی ہے، تو وہاں کی اقلیتیں خود کو مزید غیر محفوظ محسوس کریں گی۔ یہ صورتحال خطے میں "دو قومی نظریے" کی بحث کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے کہ کیا واقعی اقلیتیں ایک بڑے اکثریتی مذہبی غلبے میں محفوظ رہ سکتی ہیں؟
نتیجہ اور موازنہ
پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک اس وقت اپنی اقلیتوں کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا شکار ہیں۔ پاکستان میں چیلنج انتہا پسندی اور قانونی تحفظ کا ہے، جبکہ انڈیا میں اب یہ ریاستی بیانیے اور نظریاتی عصبیت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
مستقبل کا پیش خیمہ یہ نظر آتا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے بانیوں کے ان وعدوں کی طرف لوٹنا ہوگا جہاں شہریت کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ ریاست سے وفاداری تھی۔ مسیحی برادری کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ریاستیں کس حد تک "مذہبی آزادی" اور "قانون کی حکمرانی" پر عملدرآمد کرواتی ہیں

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation