![]() |
| Allahabad High Court Rules No Permission Needed for Christian Prayer Meetings on Private Property |
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کی اعلیٰ عدالت نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مسیحیوں کو اپنی نجی ملکیت پر دعائیہ اجتماعات منعقد کرنے کے لیے حکومتی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے تنازعے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جس کے باعث ریاست میں مسیحیوں کو بارہا ہراسانی اور قانونی مشکلات کا سامنا رہا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتُل سری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے 27 جنوری کے حکم نامے میں کہا کہ نجی پراپرٹی پر مذہبی عبادت یا دعا کے اجتماع کے لیے پیشگی اجازت لازمی نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین تمام شہریوں کو قانون کے تحت مساوی تحفظ فراہم کرتا ہے اور ریاستی ادارے مذہب یا کسی بھی بنیاد پر امتیاز نہیں برت سکتے۔ یہ فیصلہ دو مسیحی اداروں کی درخواستوں پر دیا گیا جن کی اپنی زمین پر دعائیہ اجتماعات کی اجازت کی درخواستیں سرکاری حکام نظر انداز کرتے رہے۔ مقامی پادریوں کے مطابق اس فیصلے سے ریاست بھر کے مسیحیوں کو بڑا ریلیف ملے گا جو طویل عرصے سے گھروں اور ہاؤس چرچز میں عبادت پر پولیس کارروائی کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر اجتماع نجی جگہ سے نکل کر سڑک یا عوامی مقام تک پھیل جائے تو متعلقہ حکام سے اجازت لینا ضروری ہوگی۔ (نوائے مسیحی نیوز)

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation