![]() |
| Christian children tortured in Gujranwala Dogranwala FIR copy |
گوجرانوالہ (رپورٹ: ڈیسک نیوز) - پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں لشکری پورہ بشمولہ ڈوگراں والا میں معمولی تلخ کلامی پر دو مسیحی بھائیوں پر شدید تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ کینٹ گوجرانوالہ میں درج کر لی گئی ہے جس کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
واقعے کا پس منظر اور اشتعال انگیزی
تفصیلات کے مطابق، 30 جنوری 2026 کو ساجد مسیح کے دو بیٹے، 16 سالہ ساحل اور 14 سالہ انمول، مقامی شاہد کریانہ سٹور پر گھریلو اشیاء خریدنے گئے تھے۔ خریداری کے دوران ریٹ لسٹ (Rate List) کے معاملے پر دکاندار شاہد کے ساتھ بحث ہوئی۔ یہ معمولی تکرار اس وقت شدت اختیار کر گئی جب دکاندار نے مشتعل ہو کر اپنے دیگر ساتھیوں علی رضا، ابوبکر، قیصر اور ریحان کو بلا لیا۔
ان تمام افراد نے مل کر معصوم بچوں پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کر دی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین عرفان مسیح اور عظمت عباس نے مداخلت کر کے بچوں کی جان بچائی، تاہم ملزمان نے مسیحی برادری کے خلاف نازیبا زبان بھی استعمال کی۔
حکومتی مداخلت اور پولیس ایکشن
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تھانہ کینٹ پولیس کی جانب سے کارروائی میں سستی دکھائی گئی، جس کے بعد سماجی کارکن عامر اشرف نے اس کیس کو اقلیتی وزیر رمیش سنگھ اروڑا (Ramesh Singh Arora) اور میڈم سونیا آشر (Sonia Asher) تک پہنچایا۔ اعلیٰ سطح پر نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس نے دفعہ 342 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا اور چھاپہ مار کر تین ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا، جبکہ دو تاحال فرار ہیں۔
![]() |
| Christian children tortured in Gujranwala Dogranwala FIR copy |
مسیحی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ بقیہ ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اقلیتوں (Minorities) پر ایسے حملوں کا سدِ باب ہو سکے۔ ہماری دعا ہے کہ خداوند متاثرہ بچوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے اور پاکستان میں امن و سلامتی برقرار رہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation