![]() |
| Can AI Replace Humans? What Two Popes Warn the World |
پوپ فرانسس اور پوپ لیو چہاردہم کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے پس منظر میں ایک ایسا موضوع نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جو محض کلیسائی معاملات تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)۔ دونوں پوپ حضرات نے واضح کیا ہے کہ اصل سوال ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس دور میں انسان ہونے کے معنی کیا رہ جاتے ہیں جب مشینیں سوچنے اور تخلیق کرنے کے قابل دکھائی دیتی ہیں۔
پوپ فرانسس نے اپنے دور میں مصنوعی ذہانت پر گفتگو کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ انہوں نے اسے نہ صرف خطرہ بلکہ ایک موقع بھی قرار دیا۔ ان کے مطابق AI انسانی محنت کو آسان بنا سکتی ہے، علم تک رسائی کو عام کر سکتی ہے، مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطہ بڑھا سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ ممکن بناتی ہے۔
تاہم انہوں نے بار بار خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت غیر جانبدار نہیں۔ یہ ایک طاقتور آلہ ہے اور ہر طاقت کی طرح اس میں بھی استحصال، عدم مساوات اور غلط استعمال کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے “ذہنی آلودگی” کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ فیک نیوز، ڈیپ فیک اور رائے عامہ کی ڈیجیٹل ہیرا پھیری سچائی کے بحران کی علامت ہیں۔ ان کے آخری پیغام میں یہ جملہ خاص طور پر نمایاں تھا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں انسان کو بچانے کے لیے محبت اور شاعری کی ضرورت باقی رہے گی۔
ان کے جانشین پوپ لیو چہاردہم نے بھی اسی فکر کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے اپنے نام کے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جیسے پوپ لیو سیزدہم نے صنعتی انقلاب کے دور میں سماجی انصاف کی بات کی تھی، آج کلیسیا ایک نئے صنعتی انقلاب یعنی مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی وقار، انصاف اور روزگار کے تحفظ کی بات کر رہی ہے۔
پوپ لیو چہاردہم کے مطابق AI کبھی بھی انسانی ضمیر، اخلاقی فیصلہ اور حقیقی تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔ مشین نقل کر سکتی ہے مگر سمجھ نہیں سکتی، ڈیٹا پر عمل کر سکتی ہے مگر اخلاقی فیصلہ نہیں دے سکتی، سیکھ سکتی ہے مگر محبت نہیں کر سکتی۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں حقیقت اور نقل میں فرق باقی رہتا ہے۔
آج مصنوعی ذہانت مضامین لکھ رہی ہے، تصاویر بنا رہی ہے، موسیقی ترتیب دے رہی ہے اور گفتگو بھی کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مشین محبت پر مضمون لکھ سکتی ہے تو انسان کی اصل پہچان کیا رہ جائے گی؟ پوپ فرانسس نے زور دیا کہ دل کی حکمت کو کوڈ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور AI کی اخلاقیات ایسی ہونی چاہئیں جن کے مرکز میں انسانی وقار ہو۔
دونوں پوپ اس بات پر متفق ہیں کہ AI انسان کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے، اس کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔ جو کچھ تکنیکی طور پر ممکن ہے وہ لازماً اخلاقی طور پر درست نہیں۔ پوپ فرانسس نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ پوپ لیو چہاردہم نے کثیر سطحی نگرانی اور سماجی انصاف پر مبنی گورننس کی بات کی۔
مضمون میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ بعض جنگی حالات میں AI نظاموں کو اہداف کے انتخاب کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ اگر فیصلے الگورتھم کریں گے تو رحم، ہمدردی اور انسانی درد کہاں جائے گا۔
آخر میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں اور ہم خود کس قسم کا انسان بننا چاہتے ہیں۔ AI موجود ہے اور رہے گی، مگر انسان کے پاس اب بھی سوال کرنے، غلطی کرنے اور آزادانہ اخلاقی فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے — اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation