تحریر شکیل انجم ساون چیئرمین نوائے مسیحی انٹرنیشنل
![]() |
| پنجابی مسیحی اور تقسیمِ ہند: سیاسی فیصلے، نتائج اور آج کی حقیقت |
تقسیم ہند (1947) کے دوران مسیحی برادری، خاص طور پر پنجابی مسیحیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، لیکن تاریخ کے عمومی بیانیے میں انہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ تینوں بڑی طاقتوں (انگریز، مسلم لیگ، اور کانگریس) نے مسیحیوں کے ساتھ برابری یا یکساں سلوک نہیں کیا۔ ہر فریق کے مقاصد اور ترجیحات مختلف تھیں۔
مختلف فریقین نے مسیحی برادری کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
1. انگریزوں کا رویہ (برطانوی راج)
انگریزوں کا رویہ مسیحی برادری کے ساتھ عمومی طور پر "بے اعتنائی" (Indifference) اور مایوس کن رہا۔
تحفظ کی کمی: اگرچہ بہت سے ہندوستانی مسیحیوں کا خیال تھا کہ انگریز ہم مذہب ہونے کے ناطے انہیں تحفظ فراہم کریں گے، لیکن برطانوی حکومت کی پوری توجہ صرف دو بڑی طاقتوں (مسلم لیگ اور کانگریس) کے مسائل حل کرنے پر مرکوز تھی۔
کوئی الگ انتظام نہیں: انگریزوں نے سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کے برعکس مسیحیوں کے لیے اقتدار کی منتقلی میں کوئی خاص "آئینی تحفظ" یا الگ خطہ مختص نہیں کیا۔ انہیں مقامی کانگرسی حکومتی رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
2. انڈین نیشنل کانگریس کا رویہ
کانگریس کا رویہ "توقعات اور بے پرواہی" کا ملا جلا تھا۔
ہندو اکثریت کا خوف: کانگریس کا دعویٰ سیکولر تھا، لیکن زمینی حقائق مختلف تھے۔ پنجاب میں مسیحیوں کی اکثریت نے ہندو ذات پات کے نظام سے تنگ آکر مسیحیت قبول کی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ کانگریس کے راج میں دوبارہ "اونچی ذات کے ہندوؤں" (Caste Hindus) کا غلبہ ہو جائے گا۔
نظر انداز کرنا: کانگریس نے مسیحیوں کو اپنا فطری حلیف سمجھا لیکن ان کے سماجی و اقتصادی خدشات کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے پنجاب کے مسیحی کانگریس سے دور ہو گئے۔
3. آل انڈیا مسلم لیگ کا رویہ
مسلم لیگ، اور خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کا رویہ مسیحیوں کے ساتھ "اتحاد اور یقین دہانی" پر مبنی تھا۔
اقلیتوں کے حقوق کا وعدہ: قائد اعظم نے مسیحی رہنماؤں (جیسے دیوان بہادر ایس پی سنگھا) کو یقین دلایا کہ پاکستان میں انہیں مذہبی آزادی اور برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔
مشترکہ ثقافت: پنجابی مسیحی خود کو ثقافتی اور لسانی طور پر ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کے زیادہ قریب سمجھتے تھے (کیونکہ دونوں توحید پرست یعنی "اہل کتاب" تھے اور دونوں ہی ذات پات کے نظام کے مخالف سمجھے جاتے تھے)۔
اسٹریٹجک اتحاد: مسلم لیگ کو پنجاب کی تقسیم کے وقت مسیحی ووٹوں کی سخت ضرورت تھی، اس لیے انہوں نے مسیحیوں کو فعال طور پر اپنے ساتھ شامل کیا۔
پنجابی مسیحی برادری پر اثرات اور کردار
پنجابی مسیحیوں نے تقسیم کے وقت جو فیصلے کیے، ان کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوئے۔
1. پاکستان کے حق میں فیصلہ کن ووٹ (3 ووٹوں کا معاملہ)
پنجاب اسمبلی میں پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ انتہائی نازک موڑ پر تھا۔ اس وقت مسیحی لیڈر دیوان بہادر ایس پی سنگھا (S.P. Singha) اسپیکر تھے۔
مسیحی ارکان اسمبلی نے کانگریس کے بجائے مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے ووٹوں کی وجہ سے مغربی پنجاب کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہوا اور لاہور پاکستان کا حصہ بنا۔ یہ مسیحیوں کا پاکستان بنانے میں سب سے بڑا سیاسی احسان تھا۔
2. ہجرت اور فسادات سے نسبتاً بچاؤ
چونکہ پنجابی مسیحیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا، اس لیے پنجاب میں ہونے والے خونریز فسادات (جو ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان تھے) میں مسیحیوں کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے اپنی قمیضوں پر صلیب کے نشان لگائے یا گھروں پر صلیب بنائی تاکہ فسادی جتھے انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔
3. سماجی و اقتصادی جمود (Social Stagnation)
یہ تقسیم کا ایک تاریک پہلو ہے۔
خلا پُر کرنا: جب ہندو اور سکھ پنجاب سے ہجرت کر گئے، تو صفائی ستھرائی اور دیگر نچلے درجے کی ملازمتوں میں خلا پیدا ہوا۔ بدقسمتی سے، یہ کام زیادہ تر غریب مسیحی طبقے کے حصے میں آیا۔
نئی ریاست میں مقام: اگرچہ انہیں "بانی پاکستان" کے ساتھی ہونے کا اعزاز حاصل تھا، لیکن عملی طور پر قیام پاکستان کے بعد انہیں وہ سماجی رتبہ نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ریاستی پالیسیاں (جیسے متروکہ وقف املاک کی تقسیم) اکثر طاقتور طبقات کے حق میں رہیں اور غریب مسیحی زرعی مزدور یا خاکروب تک محدود ہو کر رہ گئے۔
خلاصہ
مسیحی برادری کے ساتھ انگریزوں نے بے اعتنائی برتی، کانگریس انہیں اپنا نہ بنا سکی کیونکہ وہ ذات پات کے نظام سے خوفزدہ تھے، جبکہ مسلم لیگ نے انہیں برابری اور تحفظ کا یقین دلایا۔ اسی یقین دہانی پر پنجابی مسیحیوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کن ووٹ دیا۔ تاہم، آزادی کے بعد ان کے سماجی حالات میں وہ بہتری نہیں آئی جس کی توقع قائد اعظم کے وعدوں سے کی جا رہی تھی
.webp)
ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation