![]() |
| Anthony Naveed letter on child protection laws Pakistan |
خط میں انہوں نے مس ماریا شہباز کیس میں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے فیصلے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے چائلڈ پروٹیکشن قوانین میں موجود سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، خصوصاً کم عمر بچیوں کی شادی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں۔
قانونی خلا اور تشویش
انتھونی نوید کے مطابق اگرچہ پاکستان میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ قوانین موجود ہیں، لیکن عدالت کے حالیہ فیصلے نے نکاح کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا ہے، جس کا فائدہ قانون توڑنے والے عناصر اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کی شق 20 اور 36 کی بھی خلاف ورزی ہے، جو مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں۔
اقلیتوں کے لیے خطرہ
خط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ کم عمر لڑکیوں کو اغوا کر کے جبری مذہب تبدیل کروانے اور شادی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ایک سنگین انسانی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔
قانون سازی میں بہتری کی تجویز
انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کی طرز پر دیگر صوبوں میں بھی واضح قوانین بنائے جائیں، تاکہ کم عمر شادیوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا جا سکے۔
سخت عملدرآمد کا مطالبہ
انتھونی نوید نے زور دیا کہ قوانین پر بلا امتیاز اور مکمل عملدرآمد ضروری ہے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation