![]() |
| Forced conversion issue Pakistan Christian girls statement |
Photo by Graphe Tween on Unsplash
پنجاب میں کم عمر بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عظیم کنول چوہان (ممبر ایڈوائزری کونسل حکومت پنجاب و کوآرڈینیٹر نوائے مسیحی) نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں اس مسئلے کو سنگین انسانی اور سماجی بحران قرار دیا گیا ہے۔
آئینی حقوق کی خلاف ورزی
ڈاکٹر عظیم کنول چوہان نے کہا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم، کم عمر بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات ان بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر بچیوں کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ یہ معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان بھی بنتا جا رہا ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت سے مؤثر قانون سازی کا مطالبہ
انہوں نے حکومتِ پاکستان بالخصوص حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس حساس مسئلے پر فوری، سخت اور مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ معصوم بچیوں کو اس ظلم سے بچایا جا سکے۔
ان کے مطابق کسی بھی کم عمر بچی کا زبردستی مذہب تبدیل کروانا یا اس کی مرضی کے بغیر نکاح کرنا مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نوائے مسیحی کا مؤقف
انہوں نے مزید کہا کہ نوائے مسیحی کے پلیٹ فارم سے ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف کے حصول تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوائے مسیحی نہ صرف ایک میڈیا پلیٹ فارم ہے بلکہ ایک ایسی آواز بھی ہے جو معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف کھل کر سامنے آتی ہے۔
معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل
ڈاکٹر عظیم کنول چوہان نے معاشرے کے تمام طبقات، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک محفوظ اور پرامن ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر بچہ اور بچی بلا خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکے اور اس کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation