بھارت میں مسیحیوں کی تدفین بھی متنازع، اڑیسہ میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

بھارت میں مسیحیوں کی تدفین بھی متنازع، اڑیسہ میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ
بھارت میں مسیحیوں کی تدفین بھی متنازع، اڑیسہ میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ


بھارت کی ریاست اڑیسہ میں مسیحی برادری کو درپیش مسائل ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں، جہاں مبینہ طور پر سخت گیر گروہ قبائلی برادریوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مسیحی رہنماؤں کے مطابق اس صورتحال نے علاقے میں مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے۔


مقامی ذرائع کے مطابق سماجی کارکن لیما نے بتایا کہ ضلع نبارنگ پور میں گزشتہ دس ماہ کے دوران مسیحیوں کے خلاف کم از کم سات واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں نہ صرف مسیحیوں کی تدفین میں رکاوٹ ڈالنے بلکہ بعض مقامات پر تدفین کے بعد قبروں کو کھود کر میتیں نکالنے جیسے افسوسناک واقعات بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔


اڑیسہ لائرز فورم نے مئی 2025 میں جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نبارنگ پور کے حالیہ کئی واقعات میں “مرحومین کے بنیادی حقوق سے انکار” کیا گیا، جسے فورم نے بھارتی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور باوقار تدفین کا حق فراہم کیا جائے۔


مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاست اڑیسہ میں جون 2024 کے بعد مذہبی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جب ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاستی اسمبلی کی 147 نشستوں میں سے 78 نشستیں جیت کر اپنی حکومت قائم کی۔ اس انتخابی کامیابی کے ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کی 24 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔


اعداد و شمار کے مطابق اڑیسہ کی تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ آبادی میں مسیحیوں کی شرح تقریباً 2.77 فیصد ہے، جبکہ ہندو اور مقامی قبائلی برادریاں مجموعی طور پر تقریباً 90 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ مبصرین کے مطابق آبادی کے تناسب کے باعث اقلیتی برادریوں کو اکثر سماجی اور مذہبی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، جس کے حل کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی اور قانونی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔


سماجی و انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، اور ایسے واقعات کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم