شہباز بھٹی شہید کی سیاسی میراث پاکستان کی تاریخ میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور رواداری کے لیے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا مشن صرف ایک کمیونٹی کے تحفظ تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ پاکستان کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ ہو۔
ان کی میراث اور اسے آگے بڑھانے کے طریقے درج ذیل ہیں:
1. شہباز بھٹی کی سیاسی میراث (Political Legacy)
شہباز بھٹی کی خدمات محض نعروں تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر قانون سازی اور پالیسی کی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے۔ ان کی چند اہم ترین سیاسی خدمات یہ ہیں:
5 فیصد ملازمتوں کا کوٹہ: ان کی سب سے بڑی کامیابی سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد کوٹہ مختص کروانا تھا، جس نے ہزاروں اقلیتی نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے۔
سینیٹ میں نمائندگی: انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کی کہ سینیٹ (ایوان بالا) میں اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوں، تاکہ ان کی آواز ملکی پالیسی سازی کی اعلیٰ ترین سطح پر سنی جا سکے۔
بین المذاہب ہم آہنگی (Interfaith Harmony): انہوں نے "آل پاکستان مائنارٹیز الائنس" (APMA) کی بنیاد رکھی اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ مکالمے سے کیا جا سکے۔
توہین رسالت قانون پر مؤقف: وہ ان چند بہادر سیاستدانوں میں سے تھے جنہوں نے توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔
2. اس میراث کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟
شہباز بھٹی کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے جذباتی لگاؤ کے ساتھ ساتھ عملی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کام کو تین سطحوں پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے:
الف) سیاسی اور قانونی سطح پر (Political & Legal)
کوٹے پر عملدرآمد: 5 فیصد کوٹہ قانون تو موجود ہے لیکن اکثر محکموں میں اس پر مکمل عمل نہیں ہوتا یا خالی آسامیاں پڑی رہتی ہیں۔ سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنان کو چاہیے کہ وہ اس کوٹے کے شفاف نفاذ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں اور نگرانی کا نظام (Audit) مطالبہ کریں۔
نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کے قوانین کا نفاذ: شہباز بھٹی مذہبی نفرت کے سخت خلاف تھے۔ موجودہ دور میں، سوشل میڈیا اور نصاب تعلیم میں نفرت انگیز مواد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ ان کے مشن کا حصہ ہے۔
انتخابی اصلاحات: ان کا خواب تھا کہ اقلیتیں اپنے نمائندے خود منتخب کریں (Direct Elections) نہ کہ پارٹی لسٹوں کے ذریعے سلیکٹ ہوں۔ اس سیاسی مطالبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ب) سماجی اور تعلیمی سطح پر (Social & Educational)
تعلیم بطور ہتھیار: شہباز بھٹی کا ماننا تھا کہ پسماندگی کا خاتمہ تعلیم سے ممکن ہے۔ ان کے نام پر سکالرشپس، ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز (جیسے خوش پور میں قائم خواتین کا مرکز) اور تعلیمی ادارے قائم کرنا ان کی بہترین خدمت ہے۔
بین المذاہب مکالمہ: محلے اور کمیونٹی کی سطح پر "امن کمیٹیاں" فعال کی جائیں جہاں مسجد، چرچ اور مندر کے رہنما مل کر مقامی مسائل حل کریں۔ یہ نچلی سطح پر وہی کام ہے جو شہباز بھٹی قومی سطح پر کر رہے تھے۔
ج) تنظیمی سطح پر (Organizational)
APMA اور دیگر تنظیموں کی مضبوطی: شہباز بھٹی کی بنائی ہوئی تنظیموں (مثلاً APMA) یا ان کے نظریے پر چلنے والے دیگر اداروں (جیسے مشن شہباز بھٹی) کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے تاکہ وہ یتیموں، بیواؤں اور توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات میں پھنسے افراد کی قانونی مدد کر سکیں۔
خلاصہ
شہباز بھٹی شہید کی میراث کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم "مظلومیت کے احساس" (Victimhood) سے نکل کر "بااختیار بننے" (Empowerment) کی طرف سفر کریں۔ جس طرح انہوں نے خوف کے آگے جھکنے سے انکار کیا، اسی طرح آج کے نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation