لیہ میں تین سالہ بچے کے مبینہ قتل کا کیس: “عملیات” کے نام پر تشدد کا الزام، میاں بیوی گرفتار

 

christian child murder case layyah pakistan
christian child murder case layyah pakistan



لیہ، پنجاب — پاکستان کے ضلع لیہ میں تین سالہ بچے کی ہلاکت کے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچے کو مبینہ طور پر اس میاں بیوی نے تشدد کا نشانہ بنایا جنہوں نے اسے چند ماہ قبل گود لیا تھا۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ بچے کو مبینہ “عملیات” کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔


پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں شہباز گل اور ان کی اہلیہ مارتھا شہباز گل کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔


واقعہ کہاں پیش آیا؟

پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ عالیشان کالونی، لیہ میں پیش آیا جبکہ مقتول بچہ چک نمبر 75A/TDA، تحصیل و ضلع لیہ کا رہائشی تھا۔


ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 2 مارچ 2026 کو پیش آیا جبکہ اس کی اطلاع پولیس کو 3 مارچ 2026 کو دی گئی، جس کے بعد تھانہ صدر لیہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔


مقتول بچہ کون تھا؟

پولیس کے مطابق مقتول بچے کا نام دائم شہباز تھا اور اس کی عمر تقریباً تین سال بتائی جا رہی ہے۔


مدعی مقدمہ اور بچے کے چچا اعجاز اختر کے مطابق تقریباً تین ماہ قبل بچے کو اس کے رشتہ داروں شہباز گل اور ان کی بیوی مارتھا کے حوالے کیا گیا تھا۔


مدعی کے مطابق ملزمان نے خاندان کو یقین دلایا تھا کہ وہ بچے کو اپنے پاس رکھ کر اس کی تعلیم اور بہتر پرورش کریں گے۔


ایف آئی آر میں کیا الزام لگایا گیا ہے؟

ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان کی پہلے سے ایک بیٹی تھی لیکن بیٹا نہیں تھا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر اس یقین کے تحت کچھ “عملیات” کر رہے تھے کہ اس سے ان کے ہاں بیٹا پیدا ہو سکتا ہے۔


مدعی کے مطابق انہی عملیات کے دوران بچے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔


لاش کی حالت سے کیا پتا چلا؟

مدعی کے مطابق جب بچے کی لاش ایمبولینس کے ذریعے گاؤں پہنچائی گئی تو اہلِ خانہ نے اس کا معائنہ کیا۔


ان کے بقول:

بچے کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات موجود تھے

جسم کے مختلف حصوں پر گرم استری سے جلانے کے آثار پائے گئے

جسم کے نازک حصوں سمیت پورے بدن پر رگڑ اور زخموں کے نشانات موجود تھے


پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے آثار کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مزید تفصیلات پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گی۔


پولیس کی قانونی کارروائی

پولیس نے ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) اور دفعہ 34 (مشترکہ نیت) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔


تحقیقات کے دوران پولیس نے بتایا کہ:

کرائم سین یونٹ کو شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طلب کیا گیا

پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو بھی اطلاع دی گئی تاکہ سائنسی بنیادوں پر شواہد حاصل کیے جا سکیں

پولیس حکام کے مطابق دونوں نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔


خاندان کا ردعمل

مقتول بچے کی والدہ رابعہ شہباز اپنے بیٹے کی موت پر شدید صدمے میں ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ اس سانحے کے بعد گہرے دکھ اور بے بسی کی کیفیت میں ہیں۔


بچے کے چچا اعجاز اختر نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔


معاشرتی ردعمل

اس واقعے نے علاقے میں خوف اور غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ معاشرے میں موجود توہم پرستی اور جہالت کی ایک انتہائی افسوسناک مثال بھی ہے۔


انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشرے میں بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔


تحقیقات جاری

پولیس کے مطابق کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔


حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم