![]() |
| عدالت نے فادر نوید تھامس کو مبینہ ریپ کیس میں با عزت بری کر دیا |
پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں ایک عدالت نے گزشتہ سال درج ہونے والے مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنا پر ایک کیتھولک فادر پر لگائے گئے ایک نوجوان لڑکی سے زیادتی کے الزام سے بری کردیا ہے۔
فیصل آباد کے ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ سراج نے 19 نومبر کو فادر نوید تھامس کو 20 سالہ خاتون سے زیادتی کے الزام سے بری کیا۔
21 نومبر کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے تحریر کیا کہ مبینہ متاثرہ خاتون نے گواہی میں کہا کہ اس کے والد نے ’’شبہ اور غلط فہمی‘‘ کی بنیاد پر مقدمہ درج کروایا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق خاتون کا طبی معائنہ بھی ہوا، مگر پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں پادری کے خلاف کوئی incriminating شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
متاثرہ خاتون کے والد، ذوالفقار مسیح، نے گزشتہ سال 22 جون کو فادر تھامس کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ شکایت کنندہ چک جھمرا میں واقع سینٹ پایئس دہم پیرش کا رکن ہے، جو کم وسائل رکھنے والے مسیحیوں کی بستی ہے، اور جہاں فادر تھامس خدمت انجام دے رہے تھے۔
لڑکی کے والد نے الزام لگایا تھا کہ پادری نے اس کی بیٹی کے ساتھ بار بار زیادتی کی اور جب وہ حاملہ ہوئی تو اس کا اسقاط حمل کروایا۔
فادر تھامس کو گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی تھی۔
فیصل آباد کے بشپ، اندریاس رحمت، نے مقدمہ ختم ہونے تک فادر تھامس کو ذمہ داریوں سے معطل کر دیا تھا۔
تاہم اسی سال اگست میں انہیں اس وقت گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا جب بشپ ہاؤس فیصل آباد کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے ان کے خلاف بشپ رحمت کو قتل کی دھمکی دینے کا ایک نیا مقدمہ درج کروایا۔
بعد ازاں فادر تھامس نے ڈایوسیس کے حکام سے سمجھوتہ ہونے پر 21 دن بعد ضمانت حاصل کر لی، جس میں بشپ سے متعلق پھیلائے گئے الزامات پر عوامی معذرت بھی شامل تھی۔
مدعی مقدمہ کی طرف سے ٹرائل کے دوران ایک بھی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا جس پر عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں فادر پر لگائے گئے ریپ کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation