تامل ناڈو کے مسیحی وزیر اعلیٰ نے چرچوں اور اسکولوں کے قریب شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم دے کر کلیسیائی رہنماؤں اور عوام کو حیران کر دیا

Tamil Nadu Christian Chief Minister closes liquor shops near churches and schools
تامل ناڈو میں چرچوں اور اسکولوں کے قریب شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم
 

چنئی (نمائندہ نوائے مسیحی نیوز): بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کے نومنتخب مسیحی وزیر اعلیٰ سی۔ جوزف وجے کے ایک اہم فیصلے کو کلیسیائی رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے صرف ایک دن بعد چرچوں، مندروں، اسکولوں اور بس اڈوں کے قریب قائم شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم جاری کر دیا، جسے شراب نوشی کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


وزیر اعلیٰ جوزف وجے کا بڑا اقدام

تامل ناڈو کے پہلے مسیحی وزیر اعلیٰ سی۔ جوزف وجے نے 10 مئی کو عہدہ سنبھالنے کے بعد حکام کو ہدایت دی کہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور بس اسٹیشنوں سے 500 میٹر کے اندر قائم شراب کی تمام دکانیں دو ہفتوں کے اندر بند کی جائیں۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست میں شراب نوشی سے متعلق سماجی مسائل، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور جرائم میں اضافے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔


چرچ رہنماؤں نے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا

مدراس ہائی کورٹ کے مدورائی بینچ سے وابستہ معروف جیسوٹ پادری اور وکیل فادر اے۔ سنتھانم نے اس فیصلے کو درست سمت میں قدم قرار دیتے ہوئے کہا:

“تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں کے قریب شراب کی دکانوں کا خاتمہ ایک مثبت اقدام ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں پر اس قسم کی دکانوں کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور نئی حکومت نے ان خدشات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

فادر سنتھانم کے مطابق ریاست کی خواتین مکمل شراب بندی چاہتی ہیں کیونکہ شراب نوشی سے سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔

راہبہ الزبتھ رانی کی مکمل پابندی کی اپیل

تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی کیتھولک راہبہ اور ماہرِ تعلیم سسٹر الزبتھ رانی نے حکومتی اقدام کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کافی نہیں۔

انہوں نے کہا:

“یہ ایک شاندار قدم ضرور ہے مگر شراب نوشی کے ناسور کو مکمل ختم کرنے کے لیے مکمل پابندی ضروری ہے۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچے بھی شراب نوشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ وہ روزانہ اسکولوں کے قریب شراب کی دکانیں اور کھلے عام شراب پیتے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔


شراب نوشی سے خاندانی نظام متاثر

کیتھولک راہبہ کے مطابق شراب نوشی:

  • گھریلو جھگڑوں
  • خاندانی ٹوٹ پھوٹ
  • بچوں کی عدم توجہی
  • جرائم میں اضافے

کا ایک بڑا سبب بن چکی ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ریاست میں مکمل شراب بندی کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔

کتنی دکانیں بند ہوں گی؟

تامل ناڈو میں اس وقت سرکاری ادارے “تامل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن” کے تحت 4,765 شراب کی دکانیں کام کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق:

  • 717 دکانوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے
  • یہ تمام دکانیں نئے فاصلے کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں
  • مجموعی طور پر تقریباً 15 فیصد شراب کی دکانیں بند کی جائیں گی

حکومت نے مزید دکانوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی آڈٹ کا بھی حکم دیا ہے۔


ریاست کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بھی شراب

رپورٹس کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے مالی سال 2024-2025 میں شراب پر ٹیکس سے تقریباً 483 ارب بھارتی روپے وصول کیے، جو ریاستی ٹیکس آمدنی کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔

اس کے باوجود نئی حکومت کی جانب سے سماجی بہتری کے لیے شراب کی دکانوں کو محدود کرنے کا فیصلہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کون ہیں سی۔ جوزف وجے؟

51 سالہ سی۔ جوزف وجے ایک معروف بھارتی اداکار سے سیاستدان بنے ہیں۔ ان کی جماعت “تاملگا ویٹری کژگم” (TVK) صرف دو سال قبل قائم ہوئی تھی مگر حالیہ انتخابات میں اس نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔

بعد ازاں اتحادی جماعتوں کی حمایت سے ان کی حکومت نے اسمبلی میں 144 اراکین کی حمایت حاصل کر لی۔



تامل ناڈو میں مسیحیوں کی آبادی

تامل ناڈو کی 72 ملین سے زائد آبادی میں:

  • تقریباً 88 فیصد ہندو
  • جبکہ تقریباً 6 فیصد مسیحی آباد ہیں۔

مسیحی برادری نے جوزف وجے کے اس فیصلے کو نہ صرف سماجی بلکہ اخلاقی اصلاحات کی جانب ایک امید افزا قدم قرار دیا ہے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی