کیا پاکستان میں تاریخ کا سب سے بڑا مذہبی دورہ ہونے والا ہے؟ ویٹیکن سے آنے والی بڑی خبر!

Pope Leo XIV invited to visit Pakistan by Catholic Bishops during Vatican meeting
Pope Leo XIV receives official invitation from Pakistani Catholic bishops for a future visit to Pakistan.

اسلام آباد (شکیل انجم ساون، نوائے مسیحی نیوز)
پاکستان کے کیتھولک بشپ صاحبان نے Pope Leo XIV کو پاکستان
کے دورے کی باقاعدہ دعوت دے دی، جبکہ اطلاعات کے مطابق پوپ نے مستقبل میں پاکستان آنے میں دلچسپی اور آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی مسیحی برادری میں خوشی، امید اور جوش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

پاکستان کی کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر Bishop Samson Shukardin نے 15 مئی کو ویٹیکن میں پوپ سے خصوصی ملاقات کے دوران یہ دعوت پیش کی۔ یہ ملاقات پاکستانی بشپ صاحبان کے “Ad Limina” دورے کے اختتام پر ہوئی، جو ہر پانچ سال بعد بشپ صاحبان کی جانب سے ویٹیکن کو مقامی چرچ کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔


پاکستانی مسیحیوں کے مسائل پوپ کے سامنے رکھ دیے گئے

ملاقات کے دوران بشپ صاحبان نے پاکستان میں موجود تقریباً 35 لاکھ مسیحیوں کو درپیش مختلف مسائل اور چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ان میں غربت، سماجی امتیاز، کم عمر لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب، توہینِ مذہب قوانین کا مبینہ غلط استعمال اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کے مسائل شامل تھے۔

بشپ صاحبان نے بتایا کہ پاکستانی مسیحی بظاہر معاشی طور پر کمزور اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہیں، لیکن اپنے ایمان میں انتہائی مضبوط اور ثابت قدم ہیں۔


پوپ کا ممکنہ دورہ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اہم قرار

پاکستانی چرچ رہنماؤں اور مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے پوپ کے ممکنہ دورے کو بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔

Sister Catherine Gill نے کہا کہ اگر پوپ پاکستان آتے ہیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک روحانی برکت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ دورہ نہ صرف مسیحیوں بلکہ تمام امن پسند لوگوں کے لیے امید اور خوشی کا پیغام ہوگا۔


عالمی سطح پر پاکستانی مسیحیوں کے مسائل اجاگر ہوں گے

معروف کیتھولک رہنما Tariq Siraj Chaudhary نے کہا کہ پوپ کے ممکنہ دورے سے دنیا کو پاکستانی مسیحیوں کے حقیقی مسائل جاننے کا موقع ملے گا۔ ان کے مطابق یہ دورہ عالمی برادری کی توجہ پاکستان میں موجود ساختی امتیاز اور مشکلات کی جانب مبذول کرا سکتا ہے۔

اسی طرح Pastor Asif Khokhar نے اس دعوت کو تمام پاکستانی مسیحیوں کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کیتھولک برادری نہیں بلکہ پورے مسیحی معاشرے کے لیے خوشی کا باعث ہے۔


مسلم اسکالرز نے بھی خیر مقدم کیا

لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف مسلم اسکالر Mufti Saeed Ashiq Hussain نے کہا کہ پوپ کی پاکستان آمد دنیا کو یہ پیغام دے گی کہ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ امن اور اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ دورہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بھائی چارے اور محبت کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔


سیکیورٹی صورتحال پر بھی خدشات

تاہم بعض شخصیات نے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سابق وزیر اور رکن اسمبلی Ejaz Alam Augustine نے کہا کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ حالات کے باعث اس وقت کسی عالمی مذہبی رہنما کا دورہ حساس معاملہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب Father Mukhtar Alam نے یقین ظاہر کیا کہ پاکستان ریاستی سطح پر پوپ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ Pope John Paul II 16 فروری 1981 کو پاکستان کا تاریخی دورہ کرچکے ہیں، جب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک لاکھ افراد نے پوپل اجتماع میں شرکت کی تھی۔


نوجوان مسیحیوں میں جوش و خروش

پاکستانی مسیحی نوجوانوں میں بھی اس خبر کو لے کر بے حد جوش پایا جارہا ہے۔ مسیحی نوجوان Mishal Maria نے کہا کہ پوپ لیو XIV کی پاکستان آمد کا تصور ہی ایک خوبصورت خواب کی تعبیر محسوس ہوتا ہے۔


pakistan-catholic-church, pope-leo-xiv, pakistani-christians, vatican-news, catholic-bishops-pakistan, christian-news-pakistan, interfaith-harmony, pope-visit-pakistan

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم