برطانیہ میں پاکستانی مسیحی کمیونٹی کا احتجاج؛ ماریہ شہباز کے لیے انصاف کا مطالبہ۔

برطانیہ میں ماریہ شہباز کیس پر پاکستانی مسیحیوں کا احتجاج
مانچسٹر میں پاکستانی مسیحی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ


مانچسٹر (نوائے مسیحی نیوز):
برطانیہ کے نارتھ ویسٹ ریجن میں مقیم مسیحی کمیونٹی نے پاکستان میں کم عمر مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے مبینہ اغوا، جبری تبدیلیِ مذہب اور زبردستی شادی کے خلاف مانچسٹر میں ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔


برٹش پاکستانی کرسچن کمیونٹی یوکے‘ کے رہنما کامران سہیل کی کال پر منعقدہ اس احتجاج میں مانچسٹر سمیت پورے نارتھ ویسٹ سے مسیحی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء دوپہر ایک بجے پکاڈلی گارڈن (Piccadilly Garden) میں جمع ہوئے اور وہاں سے پولیس کی نگرانی میں مارچ کرتے ہوئے سینٹ پیٹر سکوائر پہنچے۔


مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "سٹاپ فورسڈ میرجز ان پاکستان"، "زبردستی تبدیلیِ مذہب نامنظور" اور "اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرو" جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر فضا "ساڈا حق ایتھے رکھ" جیسے نعروں سے گونجتی رہی۔


سینٹ پیٹر سکوائر پر جاوید یوسف، پاسٹر عمانوئیل مغل، آفتاب مغل، کامران سہیل، پادری لارنس گل،عدن فرحاج بخش اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستانی عدالت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی جس میں 13 سال سے کم عمر لڑکی کے نکاح کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔


مقررین نے موقف اپنایا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر شادی غیر قانونی ہے، جبکہ ماریہ کی عمر محض 12 سال 10 ماہ ہے۔

  • نادرا ریکارڈ کے باوجود عدالت کا فیصلہ ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

  • مظاہرین نے متعلقہ جج کی برطرفی اور ماریہ شہباز کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کے اختتام پر شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی