تعلیم، تربیت اور کردار سازی: پاکستانی مسیحی کمیونٹی کی ترقی کی اصل بنیاد - اے ڈی ساحل منیر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ


 پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کو درپیش سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجز کے تناظر میں اگر کسی ایک عنصر کو ترقی، استحکام اور کامیابی کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ یقیناً “بہتر تعلیم، اعلیٰ تربیت اور مضبوط کردار سازی” ہے۔ دنیا بھر کی اقلیتوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم، اخلاق اور صلاحیت کو اپنا ہتھیار بنایا وہ محدود وسائل کے باوجود بھی باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

پاکستانی مسیحی برادری کی ایک بڑی تعداد متوسط یا نچلے معاشی طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور، خود اعتمادی اور عزتِ نفس کا دروازہ بھی بنتی ہے۔ جب ایک خاندان اپنے بچے کو معیاری تعلیم دیتا ہے تو درحقیقت وہ آنے والی نسل کے مستقبل کو غربت، احساسِ محرومی اور معاشرتی پسماندگی سے نکالنے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے۔

ماضی میں پاکستان کے تعلیمی شعبے میں مسیحی اداروں اور اساتذہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے مشنری اداروں کی ترجیہات میں تبدیلی نے مجموعی طور پر کمیونٹی کے اندر تعلیمی رجحان، مطالعہ کی عادت اور فکری ترقی کو صحیح معنوں میں عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہونے دیا۔جبکہ بیرونِ ملک ہجرت کو کامیابی کا آسان ترین راستہ سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ پائیدار ترقی کا راستہ ہمیشہ قابلیت، مہارت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اکیڈمک ایجوکیشن کے ساتھ بچوں کی اخلاقی و روحانی تربیت بھی بے حد  ضروری ہےکیونکہ ایک باکردار، دیانت دار اور باصلاحیت نوجوان نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کا مثبت تعارف بنتا ہے۔ اگر نئی نسل میں سچائی، محنت، برداشت، قانون پسندی اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جائے تو وہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔

مزید یہ کہ جدید دور میں صرف روایتی تعلیم کافی نہیں رہی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، لسانیات، جدید ہنر، سول سروس، قانون، میڈیا، کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف ملازمت کے لیے نہیں بلکہ قیادت، تحقیق اور قومی خدمت کے لیے بھی تیار کرے۔

مختصراً یہ کہ پاکستانی مسیحی کمیونٹی کی اصل طاقت نہ سیاسی نعروں میں ہے، نہ وقتی جذبات میں، بلکہ اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی میں پوشیدہ ہے۔ اگر والدین، چرچ، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس مقصد کو اپنی اولین ترجیح بنا لیں تو آنے والی نسلیں نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوں گی بلکہ قومی دھارے میں ایک باوقار، باصلاحیت اور مؤثر کردار بھی ادا کریں گی۔

(اے ڈی ساحل منیر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ)

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی