منی پور میں آخر ایسا کیا ہوا کہ امن کی آواز بننے والے تین مسیحی پادریوں کو راستے میں گولیوں سے خاموش کر دیا گیا؟

Manipur India Christian pastors killed in ambush attack May 2026
منی پور میں چرچ رہنماؤں پر حملہ، تین پادری جاں بحق
 

منی پور میں مسیحی پادریوں پر مہلک حملہ، تین سینئر رہنما قتل، شمال مشرقی بھارت میں خوف و بے یقینی کی نئی لہر

امپھال / منی پور (خصوصی رپورٹ، نوائے مسیحی نیوز): بھارت کی ریاست منی پور میں 13 مئی کو ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں تین سینئر مسیحی پادریوں کو مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ چار دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب تھادو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا (TBAI) اور یونائیٹڈ بیپٹسٹ کونسل (UBC) کے رہنما ایک مذہبی کنونشن سے واپس آ رہے تھے۔ واقعے نے نہ صرف مسیحی برادری بلکہ پورے شمال مشرقی بھارت میں خوف، غم اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔


کون تھے جاں بحق ہونے والے مذہبی رہنما؟

اس خونریز حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں:

  • ریورنڈ ڈاکٹر وومتھانگ سٹلھو — صدر، تھادو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا
  • ریورنڈ کائیگولن لہوووم — فنانس سیکریٹری
  • پادری پاؤگولین سٹلھو

شامل ہیں۔

یہ تمام رہنما چرچ کی واضح نشاندہی والی گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے اور چوراچاندپور کے علاقے لامکا میں منعقدہ ایک مذہبی اجتماع سے واپس لوٹ رہے تھے کہ کانگپوکپی ضلع کی ٹائیگر روڈ پر ان پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔


امن کی کوششوں میں سرگرم رہنما بھی نشانہ بن گئے

ریورنڈ ڈاکٹر وومتھانگ سٹلھو صرف ایک مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ مختلف قبائلی برادریوں کے درمیان امن اور مفاہمت کے لیے بھی سرگرم تھے۔ ان کی والدہ رونگمئی ناگا کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ کوکی-زو اور ناگا برادریوں کے درمیان روابط بہتر بنانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔


حال ہی میں انہوں نے کوہیما میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان مذاکرات اور مفاہمتی ملاقاتوں میں بھی حصہ لیا تھا۔ مبصرین کے مطابق ان کا قتل امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔



منی پور میں تین سال سے جاری خونریز کشیدگی

منی پور میں نسلی اور سیاسی تشدد کا سلسلہ 3 مئی 2023 سے جاری ہے، جب میتیئی اور کوکی-زو قبائل کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔ اس تنازع میں اب تک 260 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ تنازع:

  • شیڈول ٹرائب اسٹیٹس
  • زمین کے حقوق
  • جنگلاتی قوانین
  • آبادی کے تناسب

جیسے مسائل پر شروع ہوا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک خطرناک سہ فریقی تنازع میں تبدیل ہو گیا، جس میں:

  • میتیئی
  • کوکی-زو
  • ناگا

برادریاں آمنے سامنے آ چکی ہیں۔


حملے کے الزامات اور تردیدیں

کوکی-زو تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اس حملے میں ناگا عسکریت پسند تنظیم زیلیانگرونگ یونائیٹڈ فرنٹ-کامسن گروپ (ZUF-K) ملوث ہو سکتی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں وادی سے تعلق رکھنے والے باغی گروہوں یا NSCN-IM کے عناصر کے تعاون کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم:

  • ZUF اور اس کے کامسن دھڑے نے حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے
  • NSCN-IM نے بھی ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے

اس صورتحال نے خطے میں مزید بداعتمادی اور خوف کو جنم دیا ہے۔



مسیحی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش؟

دہلی یونیورسٹی کے ماہرِ امورِ شمال مشرقی بھارت، کمار سنجے سنگھ کے مطابق منی پور میں نسلی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر مسیحی مذہبی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے۔

ان کے مطابق:

“ماضی میں منی پور میں مذہبی بنیادوں پر تشدد نسبتاً کم تھا، مگر اب صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔”

مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند نظریات اور سیاسی مفادات اس تنازع کو نسلی کے ساتھ مذہبی رنگ بھی دے رہے ہیں تاکہ مسیحی برادریوں کے درمیان اتحاد کو کمزور کیا جا سکے۔


آر ایس ایس اور قبائلی شناخت کا تنازع

بھارت میں ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ شمال مشرقی بھارت میں قبائلی شناخت کو مذہبی بنیادوں پر ازسرِ نو تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کئی تنظیمیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ:

“جو قبائل عیسائیت قبول کر چکے ہیں، انہیں شیڈول ٹرائب فہرست سے نکال دیا جائے۔”

مسیحی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس قسم کی مہمات مقامی قبائل میں مزید تقسیم اور نفرت کو ہوا دے رہی ہیں۔



چرچز اور مسیحی ادارے بھی مسلسل نشانے پر

2023 کے فسادات کے دوران متعدد چرچز، مسیحی عبادت گاہیں اور مسیحی آبادی والے علاقے بھی حملوں کا نشانہ بنے تھے۔ اب تین سال بعد مذہبی رہنماؤں پر براہِ راست حملہ اس تشویش کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ تشدد کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق:

  • چرچ طویل عرصے سے مختلف قبائل کے درمیان امن کا پل بنا ہوا تھا
  • مذہبی رہنماؤں کو قتل کر کے انہی امن پسند آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے
  • اس سے خطے میں مسیحی اتحاد کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے

منشیات اور مسلح گروہوں کا کردار

رپورٹس کے مطابق منی پور کے پہاڑی علاقوں میں پوست کی کاشت اور منشیات کی اسمگلنگ بھی اس تنازع کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے۔ مختلف گروہ ایک دوسرے پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات لگا رہے ہیں۔

کچھ عسکریت پسند گروہ اپنی کارروائیوں کو “منشیات کے خلاف آپریشن” قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالف برادریاں انہیں نسلی صفائی کی کوششیں قرار دیتی ہیں۔



امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت

ماہرین اور انسانی حقوق کے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:

اہم مطالبات:

  • 13 مئی کے حملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات
  • مسلح گروہوں اور منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی
  • مختلف قبائل کے درمیان مکالمہ
  • مذہبی رہنماؤں اور امدادی کارکنوں کو تحفظ
  • وفاقی حکومت کی غیر جانبدار مداخلت

تین سالہ خونریزی نے عوام کو تھکا دیا

منی پور میں جاری مسلسل تشدد نے عام شہریوں کو شدید ذہنی، معاشی اور سماجی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہیں جبکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔


مقامی مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر انصاف، شفاف تحقیقات اور امن مذاکرات شروع نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

أحدث أقدم