یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقلیتی برادری بالخصوص مسیحی نوجوانوں کی بڑی تعداد فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور صوبائی پبلک سروس کمیشنز جیسے اعلیٰ مقابلے کے امتحانات میں یا تو دلچسپی نہیں لے رہی یا مناسب رہنمائی، اعتماد اور تیاری نہ ہونے کے باعث کامیابی حاصل نہیں کر پا رہی۔ اس کے نتیجے میں وہ شعبے جہاں اقلیتوں کی مؤثر نمائندگی انتہائی ضروری ہے جیسے کہ بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، خارجہ امور، تعلیم، قانون اور پالیسی سازی، وہاں اقلیتی آواز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باوسائل نوجوان پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتیں قومی اداروں میں صرف کریں تو وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں وقار، اثرورسوخ اور استحکام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ پوری کمیونٹی کیلئے مضبوط نمائندگی، قیادت اور امید کی علامت بھی بن سکتے ہیں۔ ریاستی اداروں میں نمائندگی صرف ایک نوکری نہیں بلکہ شناخت، خود اعتمادی، اختیار اور اجتماعی طاقت کی علامت ہوتی ہے۔
مقام افسوس ہے کہ جو نوجوان یہاں اپنی کمیونٹی کیلئے مؤثر قیادت، قانونی و سماجی وکالت اور ادارہ جاتی نمائندگی کا کردار ادا کر سکتے تھے وہ بیرونِ ملک جا کر عموماً ایک عام تارکِ وطن کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ وہاں وہ معاشی طور پر آسودہ حال تو ہو سکتے ہیں مگر اکثر ان کی نہ تو کوئی نمایاں سیاسی حیثیت ہوتی ہے نہ اجتماعی قیادت اور نہ ہی کوئی مؤثر قومی شناخت۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسیحی برادری کے تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کےامتحانات کی طرف سنجیدگی سے آئیں، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں،جدید تعلیمی و تحقیقی میدانوں میں آگے بڑھیں اور ریاستی اداروں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
کسی بھی قوم یا برادری کی عزت اور طاقت صرف بیرونِ ملک جانے سے نہیں بلکہ اپنے ملک کے اداروں میں مؤثر نمائندگی، تعلیم، کردار اور قیادت سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ہماری بہترین صلاحیتیں مسلسل ہجرت کرتی رہیں گی تو پھر ہماری اجتماعی شناخت، نمائندگی اور مستقبل کا دفاع کون کرے گا؟
(اے ڈی ساحل منیر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ)

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation