 |
| Christian Personal Laws Reform Punjab Pakistan 2026 |
لاہور(رپورٹ؛ شکیل انجم ساون)8 اپریل 2026
حکومت پنجاب کے ہیومن رائٹس اینڈ منارٹیز افیئرز ڈیپارٹمنٹ نے مسیحی پرسنل لاز میں بہتری اور اصلاحات کے لیے ایک ہائی لیول ٹیکنیکل کمیٹی کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن 6 اپریل 2026 کو جاری کیا گیا، جس کے مطابق یہ کمیٹی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا کی منظوری کے بعد تشکیل دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ کمیٹی ہیومن رائٹس اینڈ منارٹیز افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرے گی اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی تاکہ ان پر مناسب عملدرآمد کیا جا سکے۔
کمیٹی کے بنیادی مقاصد میں مسیحی مذہبی رہنماؤں، خواتین اور کمزور طبقات کے نمائندوں کے ساتھ منظم مشاورت کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ قانونی و انتظامی نظام میں موجود خامیوں، قانونی پیچیدگیوں اور عملدرآمد سے متعلق مسائل کی نشاندہی بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
ہائی لیول ٹیکنیکل کمیٹی مسیحی خاندانی قوانین جیسے شادی، طلاق، نان و نفقہ، سرپرستی، وراثت اور رجسٹریشن کے موجودہ قوانین کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ ان میں موجود سقم اور اصلاح کی ضرورت والے پہلوؤں کی نشاندہی کی جا سکے۔
مزید برآں کمیٹی قانونی و ادارہ جاتی سطح پر موجود خلا کا تجزیہ کرے گی، خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ موجودہ قوانین خواتین، بچوں، بزرگ افراد، خواجہ سرا کمیونٹی اور معذور افراد پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمیٹی مختلف سب ورکنگ گروپس تشکیل دے گی جن میں کرسچن تھیولوجیکل ورکنگ گروپ بھی شامل ہوگا، جو مختلف مسیحی فرقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مذہبی و عقیدتی رہنمائی فراہم کرے گا۔
کمیٹی قانونی ماہرین، خواتین، کمیونٹی نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کرے گی تاکہ مجوزہ اصلاحات زمینی حقائق، آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری اداروں، سول رجسٹریشن اتھارٹیز اور قانون ساز اداروں کے ساتھ رابطہ کر کے مجوزہ اصلاحات کی عملی اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مربوط رجسٹریشن نظام بھی تیار کیا جائے گا تاکہ چرچ کے زیر انتظام پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کے ریکارڈ کو نادرا سمیت ریاستی نظام کے ساتھ منسلک کیا جا سکے، جس سے قانونی حیثیت اور ریکارڈ کی درستگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس ہائی لیول ٹیکنیکل کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر ارکان کو کسی قسم کا معاوضہ یا اعزازیہ نہیں دیا جائے گا۔
یہ اقدام مسیحی برادری کے خاندانی قوانین میں بہتری اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation