ترقی یا تباہی؟ کمالیہ کے شہری منصوبوں پر شدید سوالات، مسیحی کالونی نظر انداز ہونے کا انکشاف

Kamalia development projects poor condition Christian colony issues
کمالیہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عوامی تشویش

 کمالیہ (رپورٹ: عدیل اشرف جان سندھو، نوائے مسیحی نیوز)

🔥 ترقی یا تباہی؟ کمالیہ کے شہری منصوبوں پر شدید سوالات، مسیحی کالونی نظر انداز ہونے کا انکشاف

کمالیہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر جہاں ایک طرف مقامی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب ان منصوبوں کے اثرات اور معیار پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ اقلیتی رہنما اشرف جان سندھو نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے نام پر شہر کی موجودہ حالت تشویشناک ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمالیہ کا نقشہ اس وقت کسی تاریخی کھنڈر یا ہڑپہ میوزیم جیسے مناظر پیش کر رہا ہے، جہاں ہر طرف ٹوٹ پھوٹ، کھدائی اور غیر منظم تعمیراتی کام نظر آتے ہیں۔ شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے اور عوام کو روزمرہ امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔



⚠️ سرکاری فنڈز کے استعمال پر سوالات

اشرف جان سندھو کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں سرکاری فنڈز کا استعمال غیر مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو کوئی واضح ریلیف نہیں ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نگرانی کے باوجود منصوبوں کے نتائج عوامی توقعات کے برعکس ہیں، جس سے شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہو رہے ہیں۔



🏘️ مسیحی آبادیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام

اقلیتی رہنما نے خاص طور پر مسیحی برادری کے رہائشی علاقوں کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کرسچن کالونی کو ترقیاتی منصوبوں میں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق نہ صرف ان علاقوں کو شہری ترقی کے نقشے میں مناسب جگہ نہیں دی گئی بلکہ وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی انتہائی محدود ہے، جس سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔



🌍 ورلڈ بینک منصوبوں پر تنقید

انہوں نے ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر بھی کڑی تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے عوامی سہولت کے بجائے مشکلات کا سبب بن چکے ہیں۔ چار سال قبل شروع ہونے والا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ چرچ روڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔

مسلسل جاری تعمیراتی کاموں کے باعث گرد و غبار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جس سے سانس اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔




🗣️ حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

مسیحی مذہبی رہنماؤں اور مقامی شہریوں نے مریم نواز اور فیصل آباد کے کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ:

  • منصوبوں کی شفاف انکوائری کروائی جائے
  • ذمہ داران کا تعین کیا جائے
  • ترقیاتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے


🚨 صحت کے خطرات میں اضافہ

اہل علاقہ کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ صحت کے مسائل کو بھی جنم دے رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو:

  • دھول اور آلودگی سے بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے
  • شہریوں کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی


📢 عوامی مطالبات

مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • شہر کو صاف ستھرا اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے
  • ترقیاتی کاموں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے
  • اقلیتی آبادیوں کو بھی برابر کی سہولیات فراہم کی جائیں

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی