![]() |
| Grand Iftar at Gurdwara Janam Asthan Nankana Sahib promoting interfaith harmony |
ننکانہ صاحب(نوائے مسیحی نیوز)11 مارچ 2026 کو صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر ننکانہ صاحب میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال دیکھنے کو ملی، جہاں سکھ برادری کی جانب سے مسلمانوں کے اعزاز میں گوردوارہ جنم استھان میں ایک گرینڈ افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مذہبی ہم آہنگی، محبت اور امن کے پیغام کو فروغ دیا۔
یہ خصوصی افطار تقریب رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے احترام میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بھائی چارہ اور باہمی احترام کو مضبوط بنانا تھا۔ سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسے اجتماعات معاشرے میں امن اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔
معزز شخصیات کی شرکت
افطاری تقریب میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز سمیت ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، مذہبی رہنما، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران شرکاء نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر افطار کیا، جو مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا تھا۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والے امن، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں گے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ کا خطاب
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کی جانب سے مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ایسے پروگرام معاشرے میں مثبت سوچ اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کا پیغام
ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ننکانہ صاحب نہ صرف سکھ برادری کے لیے مقدس مقام ہے بلکہ یہ شہر مذہبی ہم آہنگی کی پہچان بھی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں اور خوشیوں میں شریک ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان امن اور برداشت کا ملک ہے۔
انہوں نے سکھ برادری کی جانب سے افطار پارٹی کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
مذہبی رہنماؤں کا اظہار خیال
تقریب میں موجود مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام ہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ملک کی ترقی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے پروگرام نوجوان نسل کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہیں تاکہ وہ نفرت کے بجائے محبت، برداشت اور اتحاد کو فروغ دیں۔
محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام
افطار پارٹی کے دوران شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارہ مزید مضبوط ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، امن اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation