![]() |
| Shanti Nagar 1997 Attack Christian Village Destruction Pakistan |
(نوائے مسیحی نیوز) 1997 میں شانتی نگر میں پیش آنے والے ہولناک حملے کی یاد آج بھی مسیحی برادری کے لیے ایک زندہ زخم ہے، جب مشتعل بردار ہجوم نے 785 گھروں اور 125 دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا، جس کے نتیجے میں 8,574 افراد بے گھر ہو گئے۔
حملہ آوروں نے 14 گرجا گھروں، پانچ پادریوں کے گھروں، دو اسکولوں، 24 گاڑیوں اور ٹریکٹروں کے ساتھ پانچ ٹیوب ویل بھی تباہ کر دیے۔ مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 25 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا۔
متاثرین کے مطابق وہ بے بس ہو کر مسلسل دعائیں کرتے رہے۔ ایک پادری وکٹر نے بتایا کہ ہجوم اس وقت پیچھے ہٹا جب قریبی بینک پر تعینات سیکیورٹی گارڈ نظر آیا، اور یہی لمحہ ان کی جان بچانے کا سبب بنا۔ متاثرہ شہری شفیق مسیح نے بتایا کہ ان کے باغات، گھر اور ٹریکٹر سب جل گئے اور برسوں بعد بھی وہ مکمل بحالی نہ کر سکے۔
پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنس کے کمیشن برائے جسٹس اینڈ پیس کے ڈپٹی ڈائریکٹر عطاء الرحمٰن سمن کے مطابق اس سانحے میں انصاف نہ ملنا متاثرین کی طویل تکلیف کی بڑی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں نے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے سیاسی عزم نہیں دکھایا اور کیس آج تک حل طلب ہے۔
سرکاری تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہ آ سکی اور کسی ذمہ دار کو سزا نہیں ہوئی۔ شواہد سے عندیہ ملا کہ توہینِ مذہب کے الزامات من گھڑت اور منصوبہ بندی کے تحت لگائے گئے، کیونکہ زیادہ تر مقامی مسیحی ناخواندہ تھے۔
مائنارٹی کنسرن یو کے کے بانی آفتاب الیگزینڈر مغل کے مطابق گرفتاریوں کے باوجود ملزمان کو چھوڑ دیا گیا اور یہ طرزعمل پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف حملوں کے بعد بارہا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے مقامی مسیحی آبادی میں شدید عدم تحفظ اور نفسیاتی صدمہ پیدا کیا۔ کئی بچوں نے برسوں خوف کے باعث معمولات بدل دیے۔ پادری پرویز لازرس نے بتایا کہ وہ اپنی نومولود بیٹی کے ساتھ جان بچا کر بھاگے اور اسی واقعے کی نسبت سے اس کا نام “ثانیہ” رکھا۔
عینی شاہدین کے مطابق رمضان کی 27ویں شب دھند میں لپٹا ہجوم آیا، دروازے توڑے، لوٹ مار کی اور آگ لگا دی جبکہ مقامی انتظامیہ صورتحال کو قابو میں بتاتی رہی۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ شانت نگر کبھی ایک مثالی گاؤں تھا اور آج بھی کمیونٹی نے محنت سے اسے دوبارہ کھڑا کیا ہے، مگر 1997 جیسی معاشی حالت واپس نہ آ سکی۔ رہنماؤں کے مطابق یہ سانحہ اقلیتوں کے خلاف تشدد اور توہینِ مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال کی خطرناک مثال اور ایک ایسا انتباہ ہے جسے آج تک سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
.png)
إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation