تازہ ترین

بےحسی کا بڑھتا ہوا رحجان صنف : انشائیہ ازقلم : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

Nawai Masihi · ·

ازقلم :  ڈاکٹر شاہد ایم شاہد — بےحسی کا بڑھتا ہوا رحجان صنف : انشائیہ
تحریر: ازقلم :  ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

دنیا بھر میں روز بروز معاشرتی تناؤ بڑھ رہا ہے۔حالات و واقعات اس بات کا واضح ثبوت فراہم کر رہے ہیں کہ ہر طرف کشیدگی کا عالم ہے۔ تضاد و تعارض کی فضا ہے۔دہشتیں اور تہمتیں ہیں۔الزامات کی بارش ہے۔جدھر بھی نظر دوڑائیں بے چینی اور بے یقینی جیسی کیفیت موجود ہے۔مسائل پہاڑوں کی طرح سخت اور اونچے ہیں۔دوسری جانب قوانین نے انسانوں کو ایک حبس زدہ ماحول میں پھینک دیا ہے۔جہاں گھٹن میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔یوں قید و بند کی صحبتیں مزید بڑھتی ہیں۔مجموعی طور پر انسان تذبذب کا شکار ہے۔اس پر ذمہ داریوں کا بھاری قرض ہے۔وہ اسے فرض سمجھ کر عمر بھر اتارتا رہتا ہے، لیکن وہ یوں کا تو ہی رہتا ہے۔نہ تو اس کا بوجھ کم ہوتا ہے اور نہ قیمت ادا ہوتی ہے۔انسان عمر بھر اپنے مسائل حل کرتا رہتا ہے۔لیکن وہ کم نہیں ہوتے بلکہ تواتر و تسلسل کے ساتھ بڑھتے رہتے ہیں۔عموما انسان کی اس وقت خلاصی ہوتی ہے جب اس کا جسد خاکی قبر میں اتار دیا جاتا ہے۔ یوں تو ہر دور میں بے بسی اور بے حسی کے قصے انسانی نفسیات کے ساتھ نتھی رہے ہیں۔مگر آج کل جو بے حسی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔اس کے پیچھے ماحولیاتی الودگی اور بڑی ہوئی آبادی جیسے عناصر کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض کی ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔کوئی اس جنگ کو ذاتی طور پر لڑ رہا ہے، کوئی قانونی طور پر ، کوئی معاشی طور پر اور کوئی اپنی طاقت کے بل بوتے۔انسان کسی نہ کسی صورت میں الجھاؤ کا شکار ہے۔ اس کے تعلقات و روابط میں ٹیڑھا پن ہے۔ محبت رسمی اور بناوٹی ہے۔خلوص کی کمی ہے۔خود غرضی کے کانٹے ہیں۔زبان میں کڑواہٹ ہے۔حادثاتی اور فاصلاتی حدیں ہیں۔انسان کے ہاتھ میں قلم کی بجائے تلوار ہے۔زبان میں سچ کی بجائے جھوٹ ہے۔پاؤں میں صلح کے جوتوں کی بجائے شرارت کے انگارے ہیں۔

قدرت خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ہر انسان کا امتحان لے رہی ہے۔ خیر یہاں ہر انسان کی اپنی کہانی ہے۔اپنا وطیرہ اور تہذیب و تمدن ہے۔وہ جس ماحول معاشرے اور ثقافت میں آنکھ کھلوتا ہے، اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔اسی کے گن گاتا ہے۔اظہار عقیدت کا ذریعہ بھی پھر اسی ماحول میں ہوتا ہے۔ اگر انسان کی فطری حالت کا جائزہ لیا جائے تو انسان حالت جنگ میں ہے۔ اسے کبھی دکھوں کا سامنا ہے ، کبھی آزمائشوں سے لڑنا پڑتا ہے، کبھی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی نفسیاتی عوارض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر انسان کبھی فاتح بن جاتا ہے اور کبھی شکست کھا جاتا ہے۔ویسے ان ساری باتوں کا سد باب حکمت کی بدولت فروغ پاتا ہے۔اگرچہ حکمت تو آسمانی دولت ہے۔جس کا من آسمان سے اترتا ہے۔جو اسے کھا کر ہضم کر لیتا ہے۔اسے حکمت کے نمکیات دستیاب ہو جاتے ہیں۔ویسے بھی حکمت سلجھاؤ کی راہ ہے جو اس پر چلتا ہے اس کے پاؤں ٹھوکر نہیں کھاتے۔یہ کسی ایک فرد کی بات نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی داستان ہے جس نے حقیقی اور غیر حقیقی ہونے میں فرق واضح کر دیا ہے۔اگرچہ انسان کی زندگی کا ہر دن ایک نئی امید اور ترکیب کے ساتھ طلوع و غروب ہوتا ہے۔ویسے یہ بھی عجیب ہے کوئی وقت کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور کوئی بغیر منصوبہ بندی کے دن کا آغاز کرتا ہے۔حالانکہ قدرت وقت کے بارے میں بار بار آگاہی فراہم کرتی ہے۔ آگاہی کا یہ سلسلہ روز اول سے تاحال جاری و ساری ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے بھی سچائی کا دامن سمجھا جا سکتا ہے۔اگر ان سنہری اورق کا زیرک نظروں سے مطالعہ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔انسان کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کر لیتا ہے۔علم و ادب کی بھی اپنی تحریک ہے۔ تاثیر و کشش ہے۔ لگاؤ اور ریاضت ہے۔ انسان کے پاس مستقبل کے لیے اچھی باتوں اور یادوں کا فقدان ہے۔تھوڑے لوگ اس کنویں میں نہاتے ہیں۔باقی پیاس بجائے بغیر سفر کرتے ہیں۔روز مرہ زندگی میں  یادوں کی شجرکاری رکے ہوئے پانی کی مانند ہے۔شاید ہمارے قلب و ذہن میں الودگی ہے۔ماضی حال اور مستقبل زندگی کی رعنائیوں کا گلدستہ ہے۔اچھی اور بری یادوں کا محور ہے۔تاریخ کے جھروکے زندگی کے تصوراتی رنگوں کے ترجمان بن کر ابھرتے رہے ہیں۔زندگی کا تصور تو آج بھی ویسا ہی ہے جیسے اڑھائی ہزار سال پہلے تھا۔شب و روز بھی ویسے ہی ہیں۔خواہشات کی کونپلیں ویسی ہی کھل رہی ہیں۔رسم و رواج اور تہذیب و تمدن نسل در نسل ویسی ہی انگڑائی لے رہا ہیں۔لیکن مال و متاع کی ریل پیل نے انسانوں کے درمیان کچھ ایسے دراڑھیں ڈال دی ہیں جن کے باعث ملنساری رسمی اور لمحاتی لبادہ اوڑھ چکی ہے۔ اگرچہ دنیا ایک خوب صورت تصور ہے۔ماضی حال اور مستقبل کا شہکار ہے۔ کائنات کی اپنی زبان و عمل ہے۔درس و تدریس ہے۔حکمت و معرفت ہے۔سبق و تربیت ہے۔حسن و جمال ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان اپنے اندر کے موسم کو بھی خوش گوار بناتا۔لیکن دنیاوی الودگی کے باعث پت جڑ ہے۔انسان کائنات میں الجھے ہوئے راہی کی مانند ہے۔رویوں میں کبڑا پن ہے۔تنہائی اور بےچارگی ہے۔یہ ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ وقت نے انسان کو بے حسی پر مجبور کر دیا ہے۔شاید قسمت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر یا معجزاتی طور پر کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جو بڑھی ہوئی بے بسی کو ختم کر سکے۔ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب انسان کی روح تازہ دم ہوگی۔ا سے مثبت سوچنے کا موقع ملے گا۔البتہ زندگی کا اصل دارومدار تو صفات کے کرشمات میں پوشیدہ ہے۔جب انہیں اذہان و قلوب میں پنپنے کا موقع ملے گا تو یہ عہد و پیماں کا لبادہ اوڑھ لیں گے۔کیوں کہ بے حسی انسان کو تنگ نظر اور کم ظرف بنا دیتی ہے۔ویسے ہمارا دل و دماغ اس وقت مفلوج ہوتا ہے جب اس پر منفی قوتیں حملہ کرتی ہیں۔اگرچہ یہ ایک پیچیدہ اور سنجیدہ حالت ہے۔اس کے باعث انسان کے ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگتا ہے۔نفسیاتی روگ زندگی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔اسی طرح بے حسی کا بڑھتا ہوا رحجان معاشرے میں کینسر کی طرف پھیل رہا ہے۔