تازہ ترین

اپنی صحت کا خیال رکھیں

Nawai Masihi · ·

 

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد — اپنی صحت کا خیال رکھیں
تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

پاکستان میں صحت کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔مریضوں کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔اکثریت ہیپاٹائٹس ، ہائی بلڈ پریشر ، ذیابطیس ، گردوں کے امراض ، دل کے امراض اور معدہ کے سنگین مسائل میں مبتلا ہے۔نت نئی بیماریوں اور وائرسز نے انسانی زندگی کو بیماریوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔عوام الناس صحت کے حوالے سے بہت زیادہ غافل ہو چکی  ہے۔اس کے علاوہ جو صحت کے اصولوں سے تھوڑے بہت واقف ہیں۔وہ بہت سارے معاملات میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔مثلاً کھانے پینے میں بے پرواہی خاص طور پر شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض یہ جانتے ہوئے کہ چینی اور نمک کا زیادہ استعمال  خطرناک ہے۔وہ اکثر ایسے جملے بول کر جی بہلا لیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں خدا خیر کرے گا۔ 

اگرچہ صحت ہر فرد کا نجی معاملہ ہے۔اس کے برعکس عالمی اعداد و شمار میں بحیثیت قوم تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال قائم ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو ہزار ہسپتال کام کر رہے ہیں۔55 سو بنیادی مراکز صحت قائم ہیں۔ تقریباً 700 رورل مراکز ہیں۔اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ڈسپنسریاں ، مٹرنیٹی ہوم ، ہومیوپیتھک کلینکس اور یونانی طبی  دوا خانے بھی مریضوں کی صحت کے لیے کام کر رہے ہیں۔اتنے زیادہ ہسپتال ، ڈسپنسریاں ، فلاحی مرکز اور مٹرنیٹی  ہوم  ہونے کے باوجود بھی مریضوں کی تعداد ہر روز بروز بڑھ رہی ہے۔بیماریوں کی تعداد کے مقابلہ میں ذہنی امراض میں بڑی شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔جس کی سب سے بڑی مثال مثبت سوچ کے حامل لوگ خال خال نظر آتے ہیں۔ہمارے ہاں متوازن غذا کا فقدان ہے۔شاید جس کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے جہاں انسان کی قوت خرید ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔غریب لوگ تنگ دستی کے باعث متوازن غذا سے محروم ہیں۔

غیر متوازن غذا کے باعث بہت سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔مثلاً مختلف وٹامنز کی کمی ، معدنیات کی کمی ، گوشت ، پھل اور سبزیوں کا فقدان ایک ایسی کمی کو جنم دے رہا ہے جہاں انسانی اعضاء خوراک کی کمی کے باعث ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہاں عمر بھر کا روگ اور روپے پیسے کا ضیاع شامل ہے۔یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے بلکہ ماضی حال اور مستقبل کا مستقل خطرہ ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے نصاب میں بہت سے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر بچوں کو شروع سے ہی صحت کے حوالے سے مضامین پڑھائے جائیں۔متوازن اور غیر متوازن خوراک کا فرق بتایا جائے۔اخلاقی اور غیر اخلاقی اصولوں کی وضاحت کر دی جائے۔بیماریوں کے خوفناک انجام کے بارے میں بتا دیا جائے تو خطرے کو کم از کم کیا جا سکتا ہے۔آپ کسی بھی ہسپتال میں جا کر دیکھ لیں وہاں مریضوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگی جہاں انسان اپنے ہونٹوں کو پھسارنے لگتا ہے۔ہونٹوں پر انگلی رکھ لیتا ہے۔سوچ کے گہرے کھڈے میں گر جاتا ہے۔مگر افسوس ! وہ اپنی صحت کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتا۔زمانے کی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیجیے کہ ماضی میں لوگ کتنے صحت مند ہوتے تھے؟ سہولیات کا فقدان ہونے کے باوجود بھی وہ جفا کش اور محنت کے عادی تھے۔ عصر حاضر میں ہر کوئی اپنی صحت کے حوالے سے پریشان ہے۔کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔مثال کے طور پر کسی کو ذیابطیس کا دیمک لگا ہوا ہے۔کوئی جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ کوئی ہائی بلڈ پریشر کے ہاتھوں پریشان ہے۔کسی کو دل کی بیماریوں نے چلنے پھرنے سے عاری بنا دیا ہے ۔ الغرض یہ حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہم کتنے صحت مند ہیں۔ اپنی زندگی کی چار دیواری میں جھانک گ کر ضرور دیکھ لیجئے۔جسم و روح مکمل طور پر گواہی دینے کے لیے تیار ہوں گے کہ ہم صحت کے حوالے سے کتنے باشعور ہیں۔اگر ایک پڑھے لکھے انسان سے لے کر عام آدمی کی زندگی کا موازنہ کیا جائے تو صحت کے حوالہ سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا۔چونکہ ہم صحت کے حوالے سے غیر ذمہ دار ہیں۔ ہمیں خبر نہیں کہ ہم نے کیا کھانا اور کیا پینا ہے؟ مصروف زندگی نے تو سیر و تفریح کی عادت کو بالکل ختم کر دیا ہےآسائشوں نے زندگی کو بہت زیادہ آرام طلب بنا دیا ہے۔سوشل میڈیا کا اتنا زیادہ جنون ہے کہ رات بھر سو نہیں پاتے۔ نہ سونے کے باعث نوجوان نسل کارڈیک اریسٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ہوٹلوں کے کھانے کھا کھا کر کولیسٹرول میں اضافہ ، گلاسرائڈ کی زیادتی اور گندا پانی پی پی کر ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ناشتے کی جگہ رس اور بریڈ نے لے لی ہے۔انسان حفظان اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی تعداد میں دن دگنی اور رات چگنی اضافہ ہو رہا ہے۔حکومتیں ہسپتال بنانے کے لیے اربوں کا بجٹ مخصوص کرتی ہے۔اگر وہ اپنی عوام کو صحت مند زندگی  کے بارے میں آگاہی دے تو بہت سے خطرناک امراض سے بچاؤ ممکن ہے۔وہی روپیہ پیسہ اگر صحت مند زندگی پر خرچ  کیا جائے تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ جنگ فوڈ کی فیکٹریوں نے بچوں کی صحت کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا ہے۔وہ ناقابل بیان صورت حال ہے۔شایدآج یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی معدہ ،  جگر ، گردوں اور دل کے امراض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ آئیں اگر ہم واقعی صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔تاکہ بیماریاں کم سے کم پیدا ہوں۔ روپے پیسے کا زیادہ سے زیادہ استعمال کاروبار اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے خرچ ہو۔ اس سے قبل بہت دیر ہو جائے اپنی صحت پر توجہ دیجئے۔صحت مند زندگی گزاریے۔کیوں کہ ایک صحت مند ماں صحت مند قوم پیدا کر سکتی ہے۔