![]() |
| چک نمبر 113 پی میں پلس پراجیکٹ کے تحت آگاہی سیشن کی جھلک |
اس آگاہی پروگرام کا مقصد عوام کو زمین کے ریکارڈ، مشترکہ کھاتہ جات کی تقسیم، پارسل نقشہ سازی سروے اور سبز پراپرٹی سرٹیفکیٹ جیسے اہم امور کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ شہری اپنے حقوق اور جدید نظام سے بہتر انداز میں آگاہ ہو سکیں۔
کمیونٹی انگیجمنٹ ایسوسی ایٹ محمد عاطف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلس پراجیکٹ حکومت پنجاب کا ایک اہم اقدام ہے جس کے ذریعے زمین کے ریکارڈ کو جدید، شفاف اور عوام دوست بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں زمینوں کے ریکارڈ اور ملکیت سے متعلق مسائل کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن جدید ڈیجیٹل نظام ان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے شرکاء کو پارسل نقشہ سازی سروے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے زمینوں کی درست پیمائش اور واضح حد بندی ممکن بنائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں تنازعات میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مشترکہ کھاتہ جات کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس عمل سے شہریوں کو قانونی اور انتظامی سہولیات حاصل ہوں گی۔
محمد عاطف نے سبز پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام زمین کی ملکیت کو محفوظ اور شفاف بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ پلس پراجیکٹ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہا ہے اور دیہی علاقوں میں بھی لوگوں کو جدید لینڈ ریکارڈ سسٹم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پروگرام میں کرامت علی نمبر دار، پاسٹر حنوک مسیح، ارشاد سمی سمیت گاؤں کی دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے زمینی معاملات سے متعلق مختلف سوالات کیے جن کے محمد عاطف نے تفصیلی اور تسلی بخش جوابات دیے۔
مقامی افراد نے اس آگاہی سیشن کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں اکثر لوگ زمین کے جدید نظام اور قانونی معاملات سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے، اس لیے ایسے تربیتی اور معلوماتی سیشنز نہایت ضروری ہیں۔
سلمان منسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام تک درست معلومات پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پلس پراجیکٹ جیسے اقدامات عوامی مسائل کے حل میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی عوامی آگاہی کے لیے اس نوعیت کے پروگرامز جاری رکھے جائیں گے۔
آخر میں کمیونٹی انگیجمنٹ ایسوسی ایٹ محمد عاطف نے یقین دہانی کروائی کہ پلس پراجیکٹ کے تحت مزید دیہات اور علاقوں میں بھی آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس جدید نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔

إرسال تعليق
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation