شیخو پورہ( رپورٹ؛ ممبر نوائے مسیحی عظیم کنول چوہان )
پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کی ایک خوبصورت مثال کے طور پر بساکھی کے موقع پر بھارت سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ 10 اپریل 2026 کو واہگہ بارڈر کے ذریعے تقریباً 2840 سکھ یاتری پاکستان میں داخل ہوں گے۔
یہ یاتری بھارت کے مختلف شہروں اور ریاستوں جن میں پنجاب، ہریانہ، دہلی، کرناٹک، ممبئی، کشمیر اور مہاراشٹر شامل ہیں، سے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں۔
✨ مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال
سکھ یاتریوں کی آمد نہ صرف مذہبی آزادی کی علامت ہے بلکہ یہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان محبت، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان حکومت کی جانب سے ان یاتریوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کا قیام، سکیورٹی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی آرام دہ اور محفوظ ماحول میں ممکن بنائی جا سکے۔
🏨 حکومتی سطح پر بہترین انتظامات
حکومتِ پاکستان نے یاتریوں کی سہولت کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور طبی سہولیات سمیت ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب حکومت اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
🗣️ ڈاکٹر عظیم کنول چوہان کا بیان
ممبر مینارٹی ایڈوائزری کونسل حکومت پنجاب و کوآرڈینیٹر نوائے مسیحی، ڈاکٹر عظیم کنول چوہان نے اپنے بیان میں کہا:
"پاکستان آنے والے تمام سکھ بہن بھائیوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کی آمد دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔"
🤝 اقلیتی امور میں حکومتی قیادت کا کردار
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا کی قیادت میں یاتریوں کے لیے نہایت شاندار انتظامات کیے گئے ہیں، جو حکومت کے مثبت اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔
🌍 امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام
ڈاکٹر عظیم کنول چوہان نے اس امید کا اظہار کیا کہ سکھ یاتریوں کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور مثبت روابط کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation