
PMTA meets PECTAA officials on Christian syllabus approval
فیصل آباد (عدیل ابراہیم کھوکھر، نوائے مسیحی نیوز) پاکستان میں مسیحی برادری کے لیے ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان منارٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشن (PMTA) کے چیئرمین پروفیسر انجم جیمز پال کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پنجاب ایجوکیشن کریکولم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) کے سینئر افسران سے اہم ملاقات کی۔
یہ ملاقات نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کے تعلیمی حقوق کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ملاقات کا مقصد اور اہمیت
ملاقات کا بنیادی مقصد مسیحی طلبہ کے لیے تیار کیے گئے نصابی کتب کے نوٹیفکیشن، اشاعت اور عملدرآمد کے مراحل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ وفد نے اس اہم پیش رفت پر PECTAA حکام کو مبارکباد پیش کی اور اس عمل کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب کی بروقت اشاعت اور اسکولوں تک فراہمی سے مسیحی طلبہ کو اپنی مذہبی تعلیم بہتر انداز میں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
وفد میں شامل اہم شخصیات
اس اہم وفد میں پاکستان بھر سے نمایاں تعلیمی و مذہبی شخصیات شامل تھیں:
پروفیسر ڈاکٹر ڈینیل یوسف – صدر پنجاب PMTA
پروفیسر ڈاکٹر انیل سیموئیل – صدر لاہور ڈویژن PMTA
پاسٹر اصغر رحمت – صدر ضلع اوکاڑہ PMTA
یہ تمام شخصیات عرصہ دراز سے مسیحی تعلیم کے فروغ اور نصابی اصلاحات کے لیے سرگرم ہیں۔
PECTAA کے اعلیٰ افسران کی شرکت
ملاقات میں PECTAA کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا:
عامر ریاض – ڈائریکٹر، PECTAA
مہر صفدر ولید – ڈپٹی ڈائریکٹر، PECTAA
دانش سرفراز – سبجیکٹ اسپیشلسٹ، PECTAA
افسران نے اس بات کا یقین دلایا کہ نصابی کتب کی اشاعت اور عملدرآمد کے مراحل کو جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
تعلیم کے میدان میں مثبت پیش رفت
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مسیحی طلبہ کے لیے بلکہ پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے بھی ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
اقلیتی حقوق کے لیے اہم قدم
وفد کے اراکین نے اس ملاقات کو اقلیتی برادری کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مزید بہتری کی راہ ہموار کرے گی۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اس عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ تمام اقلیتی طلبہ کو ان کا بنیادی حق یعنی معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔
یہ ملاقات اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب حکومتی ادارے اور کمیونٹی قیادت ایک ساتھ کام کریں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ مسیحی نصاب کی منظوری اور اشاعت یقیناً پاکستان میں تعلیمی مساوات کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation