مشرقِ وسطیٰ میں جنگ و تشدد پر پوپ لیو کا عالمی پیغام: “جو اُنہیں نقصان پہنچاتا ہے، وہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے”

 روم (نوائے مسیحی نیوز) دنیا بھر میں جاری جنگوں اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم (Pope Leo XIV) نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری طور پر تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔


Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican
Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican
7

سینٹ پیٹر اسکوائر میں ہزاروں افراد کی شرکت

بارش کے باوجود ہزاروں زائرین ویٹیکن سٹی کے مشہور سینٹ پیٹر اسکوائر میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے پوپ لیو کے ساتھ اینجلس (Angelus Prayer) میں شرکت کی۔ یہ منظر نہ صرف ایمان کی مضبوطی کا مظہر تھا بلکہ دنیا میں امن کی اجتماعی دعا کی ایک خوبصورت مثال بھی پیش کرتا ہے۔

Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican
Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican

“خاموش رہنا ممکن نہیں”

دعائے اینجلس کے بعد اپنے خطاب میں پوپ لیو نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تشدد نے انسانیت کو شدید زخمی کیا ہے۔ انہوں نے کہا:

“ہم اتنے بے گناہ لوگوں کی تکلیف کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے، یہ انسانیت کے خلاف ایک بڑا سانحہ ہے۔”

انہوں نے مزید زور دیا کہ یہ مسلسل تشدد صرف متاثرہ علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ “جو اُنہیں نقصان پہنچاتا ہے، وہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔”


جنگی صورتحال اور بڑھتی ہلاکتیں

رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب 23ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • لبنان میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  • Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican
    Pope Leo XIV Angelus prayer peace message Middle East violence Vatican
  • ایران میں تقریباً 1444 اموات اور 18,000 سے زائد زخمی رپورٹ ہوئے
  • اسرائیلی شہروں پر میزائل حملوں میں کم از کم 160 افراد زخمی ہوئے
  • خلیجی ممالک، سعودی عرب اور بحرین نے اپنی فضائی حدود میں ڈرونز اور میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق کی

یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔


امن کے لیے دعا اور مکالمے کی اپیل

پوپ لیو نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ دنیا بھر کے مسیحی اور تمام انسان دعا میں ثابت قدم رہیں تاکہ جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ:

“امن کا راستہ صرف سچے مکالمے، باہمی احترام اور انسانی وقار کی پاسداری سے ہی نکل سکتا ہے۔”

انہوں نے ان جنگوں کو “انسانی خاندان کے لیے ایک شرمناک حقیقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خدا کے حضور ایک چیخ کی مانند ہیں۔


روم میراتھن: امید کی ایک جھلک

اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو نے روم میراتھن میں شریک ہزاروں کھلاڑیوں کو بھی خوش آمدید کہا، جو اسی وقت شہر کی تاریخی گلیوں میں دوڑ رہے تھے۔

انہوں نے اس موقع کو “امید کی علامت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے امن، سماجی ہم آہنگی اور روحانیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔


مسیحی برادری کے لیے پیغام

یہ پیغام دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے ایک روحانی رہنمائی ہے کہ وہ نہ صرف دعا کریں بلکہ امن کے قیام کے لیے عملی کردار بھی ادا کریں۔ آج جب دنیا نفرت، جنگ اور تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں مسیحی تعلیمات ہمیں محبت، معافی اور اتحاد کا درس دیتی ہیں۔


دعا

خداوند یسوع مسیح سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے ہر کونے میں امن قائم کرے، جنگوں کا خاتمہ ہو، اور ہر انسان کو محفوظ زندگی نصیب ہو۔ آمین۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی