![]() |
Christian community protest in Islamabad against eviction of settlements |
تحریر: شکیل انجم ساون چیئرمین، نوائے مسیحی
اسلام آباد کے دل میں بسنے والی مسیحی بستیوں کی کہانی ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ترقی کے نام پر انسان کہاں کھڑا ہے اور انسانیت کہاں رہ گئی ہے۔ دارالحکومت میں تین بڑی مسیحی آبادیوں کو خالی کرانے اور مکانات مسمار کرنے کا فیصلہ وقتی طور پر روک دیا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف وقفہ ہے یا کسی بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی؟
حکومت کی جانب سے تقریباً 25 ہزار افراد—جن میں اکثریت مسیحیوں کی ہے—کو بے دخل کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے لیے “سرکاری زمین واگزار” کروانا ضروری ہے۔ لیکن کیا کسی بھی منصوبے کی بنیاد انسانوں کے گھروں کو گرا کر رکھی جا سکتی ہے؟ کیا ترقی کا مطلب کمزور طبقے کو مزید کمزور کرنا ہے؟
یہ وہی مسیحی خاندان ہیں جنہیں ماضی میں ایک مشکل وقت کے دوران یہاں بسایا گیا تھا۔ جب توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات کے باعث ایک کم عمر بچی، رمشا مسیح، کا کیس سامنے آیا تو ان خاندانوں کو جان کے خطرات لاحق ہوئے۔ تب ریاست نے انہیں یہاں منتقل کیا۔ آج وہی لوگ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ یہ صرف گھروں کی بات نہیں، یہ اعتماد کی بات ہے—ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستانی مسیحی برادری کا پیشہ ورانہ زوال: 1990 کی دہائی سے اب تک کے عوامل اور اسباب
پنجابی مسیحی اور تقسیمِ ہند: سیاسی فیصلے، نتائج اور آج کی حقیقت
شہباز بھٹی شہید کی سیاسی میراث - تحریر شکیل انجم ساون چیئرمین نوائے مسیحی انٹرنیشنل
انخلا کے اعلان کے بعد مسیحی برادری سڑکوں پر نکل آئی۔ احتجاج، دعائیں، اور اپیلیں—ہر دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ سادہ ہے: “اگر ہمیں جانا ہے تو ہمیں متبادل زمین اور باعزت رہائش دی جائے۔” یہ کوئی غیرمعمولی مطالبہ نہیں، بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔
![]() |
Forced eviction of Christian settlements in Islamabad raises human rights concerns amid protests and government plans. |
حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس منصوبے کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے۔ لیکن اسی بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ منصوبہ “یقیناً آگے بڑھے گا”۔ یعنی خطرہ ٹلا نہیں، صرف مؤخر ہوا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے غیر قانونی آبادیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی سامنے آیا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن قانون کا نفاذ ہمیشہ انصاف اور رحم کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر ہزاروں افراد کو بغیر کسی متبادل کے بے گھر کر دیا جائے تو یہ قانون کی جیت نہیں بلکہ انسانیت کی ہار ہوگی۔
چرچ کی قیادت اس صورتحال میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ فادر سلویسٹر جوزف نے واضح کیا کہ اگر خدانخواستہ مکانات مسمار کیے گئے تو چرچ متاثرہ خاندانوں کو کھانا اور عارضی رہائش فراہم کرے گا۔ یہ چرچ کا وہ کردار ہے جو ہمیشہ مشکل وقت میں امید کی کرن بنتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی ذمہ داری چرچ پر چھوڑ سکتی ہے؟
مسیحی رہنماؤں نے سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل سے ملاقات کی اور اپنے خدشات حکومت تک پہنچانے کی اپیل کی۔ دوسری جانب سماجی کارکن جولیس سالک اس منصوبے کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک بنانی ہے تو کوئی اور راستہ نکالا جائے، غریبوں کے گھروں پر ترقی کی بنیاد نہ رکھی جائے۔
![]() |
Forced eviction of Christian settlements in Islamabad raises human rights concerns amid protests and government plans. |
یہ مسئلہ صرف اسلام آباد کی تین بستیوں کا نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں اقلیتوں کے مستقبل کا آئینہ ہے۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں کمزور کو آسانی سے ہٹا دیا جائے؟ یا ایسا ملک جہاں ہر شہری، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو، برابر کے حقوق اور تحفظ کا حقدار ہو؟
کاریتاس پاکستان کے نمائندے نے بھی واضح کیا ہے کہ جبری بے دخلی نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کیتھولک برادری سے اپیل کی کہ وہ قانونی اور پرامن طریقوں سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی، اور مذہبی قیادت مل بیٹھ کر ایک ایسا حل نکالیں جو انصاف پر مبنی ہو۔ ترقی کے منصوبے ضرور بنیں، لیکن ان کی بنیاد انسانوں کے آنسوؤں پر نہ رکھی جائے۔
بطور مسیحی قوم، ہمیں دعا کے ساتھ ساتھ عملی قدم بھی اٹھانے ہوں گے۔ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے آواز بلند کرنا، ان کے ساتھ کھڑا ہونا، اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے۔
خدا ہمیں حکمت دے کہ ہم انصاف کا ساتھ دیں، اور ہمارے حکمرانوں کو یہ توفیق دے کہ وہ فیصلے کرتے وقت انسانیت کو مقدم رکھیں۔
ئیں ہم دعا کریں کہ خدا ہمارے ملک میں انصاف، رحم اور حکمت کو فروغ دے تاکہ کوئی بھی شہری خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔ آمین۔




ایک تبصرہ شائع کریں
Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation