ہر سال 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز 1987 میں پیرس میں ہوا جب ایک لاکھ افراد غربت، بھوک اور تشدد کے متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے، اور 1992 میں اقوامِ متحدہ نے اسے باضابطہ عالمی دن قرار دیا۔
2026 کا عالمی موضوع:
اقوامِ متحدہ نے 2026 کے لیے اس دن کا موضوع مقرر کیا ہے:
"سماجی اور ادارہ جاتی بدسلوکی کا خاتمہ — منصفانہ، پرامن اور ہمہ گیر معاشروں کے لیے مل کر عمل کرنا"
Ending Social and Institutional Maltreatment — Acting Together for Just, Peaceful and Inclusive Societies
اور 2026 سے 2028 تک کا بڑا عنوان ہے: "امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد"۔
اس موضوع نے ہمیں ایک بہت اہم سچائی یاد دلائی ہے کہ غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ سماجی دھتکار، ادارہ جاتی ناانصافی اور عزتِ نفس کے مجروح ہونے کا نام بھی ہے۔
برطانیہ اور نیوکاسل میں غربت کا چہرہ
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ غربت صرف افریقہ یا ایشیا کا مسئلہ ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ آج برطانیہ میں بھی لاکھوں خاندان غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ نیوکاسل اپون ٹائن میں بھی ہمارے پڑوس میں ایسے خاندان ہیں جو بڑھتے ہوئے کرایوں، توانائی کے بلوں اور خوراک کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
غربت میں جینے والا شخص صرف بھوکا نہیں ہوتا، وہ اکثر شرمندگی، تنہائی اور اس احساس کا بھی شکار ہوتا ہے کہ معاشرہ اسے کمتر سمجھتا ہے۔ اسی سماجی اور ادارہ جاتی بدسلوکی کو ختم کرنا اس سال کا پیغام ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ غربت انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں امن نہیں، انصاف نہیں، وہاں غربت ختم نہیں ہو سکتی۔
ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
1۔ رویوں میں تبدیلی: غریب کو حقیر نہ سمجھیں۔ وہ ہمارا بھائی، ہماری بہن ہے۔ اس کی عزتِ نفس کو بحال کرنا پہلا قدم ہے۔
2۔ اداروں میں انصاف: کونسل، اسکول، ہسپتال اور نوکری دینے والے ادارے ایسا نظام بنائیں جہاں غریب خاندان کو دھتکارا نہ جائے بلکہ سہارا دیا جائے۔
3۔ عملی یکجہتی: نیوکاسل میں فوڈ بینک، ڈیٹ بینک، وارم بینک اور کمیونٹی لارڈرز جیسے منصوبے اسی یکجہتی کی مثال ہیں۔ ہمیں ان کا ساتھ دینا ہے۔
روحانی رہنمائی — قرآن و انجیل مقدس کی روشنی میں
قرآن مجید (سورۃ البقرہ 2:83) میں ارشاد ہے:
"اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔"
سورۃ الضحیٰ میں فرمایا:
"پس یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو۔"
انجیل مقدس بھی غربت کے خاتمے کو ایمان کا حصہ قرار دیتی ہے:
1۔ امثال 14:31
"جو غریب پر ظلم کرتا ہے وہ اس کے خالق کی توہین کرتا ہے، لیکن جو محتاج پر رحم کرتا ہے وہ خدا کی تمجید کرتا ہے۔"
2۔ لوقا کی انجیل 4:18
"خداوند کا روح مجھ پر ہے، اس لیے کہ اس نے مجھے مسح کیا تاکہ غریبوں کو خوشخبری سناؤں۔"
— یسوع مسیح کی آمد کا پہلا مقصد ہی غریبوں کو خوشخبری دینا تھا۔
3۔ یعقوب کا خط 2:5-6
"کیا خدا نے اس جہان کے غریبوں کو ایمان میں دولتمند اور اس بادشاہی کا وارث ہونے کے لیے نہیں چنا؟ لیکن تم نے غریب کی بے عزتی کی ہے۔"
— یہ آیت اس سال کے موضوع "سماجی بدسلوکی کے خاتمے" کے عین مطابق ہے۔
4۔ متی کی انجیل 25:40
"جو کچھ تم نے میرے ان چھوٹے سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے لیے کیا، وہ میرے لیے کیا۔"
حرفِ آخر
غربت کا خاتمہ صرف حکومتوں کا کام نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایک ایسا نیوکاسل، ایک ایسا برطانیہ اور ایک ایسی دنیا بنانی ہے جہاں ہر انسان کو انصاف، امن اور عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔
آئیے اس 17 اکتوبر کو ہم عہد کریں کہ ہم غریب کو صرف خیرات نہیں، بلکہ عزت، موقع اور انصاف دیں گے۔ کیونکہ غربت کا خاتمہ خیرات سے نہیں، انصاف سے ہوتا ہے۔
نوائے مسیحی، ہر مسیحی کی آواز
اگر آپ بھی نوائے مسیحی میں لکھنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں
