![]() |
| عالمی یومِ ذہنی صحت 2026 — حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی۔ |
ہر سال 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن پہلی بار 1992 میں ورلڈ فیڈریشن فار مینٹل ہیلتھ (WFMH) نے منایا تھا۔ تب سے لے کر آج تک اس دن کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے - یہ یاد دلانا کہ ذہنی صحت کے بغیر مکمل صحت ممکن نہیں۔
اس سال 2026 کا عالمی موضوع نہایت اہم اور معنی خیز ہے:
"سنی گئی زندگی کی کہانیاں: حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی"
Lived Experiences Heard: Real Voices, Real Change
عالمی ادارہ صحت (WHO) اس سال یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب صرف سننا کافی نہیں، عمل کرنا ہوگا۔ ان لوگوں کو جنہوں نے خود ذہنی بیماری، ڈپریشن، اینگزائٹی یا دیگر نفسیاتی مشکلات کا سامنا کیا ہے، انہیں ماہر سمجھا جائے اور انہیں صحت کی پالیسیوں اور خدمات کی تشکیل میں شامل کیا جائے۔
ہمارے معاشرے میں خاموشی کیوں؟
ہماری پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا یہاں برطانیہ میں، ذہنی صحت پر بات کرنا آج بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ میرا بلڈ پریشر زیادہ ہے، لیکن یہ کہنے سے ہچکچاتے ہیں کہ میرا دل اداس ہے، مجھے نیند نہیں آتی، یا مجھے ہر وقت بے چینی رہتی ہے۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ذہنی بیماری کمزوری، بے ایمانی یا ایمان کی کمی کی علامت نہیں ہے۔ ڈپریشن صرف اداسی نہیں ہے۔ اینگزائٹی صرف عام پریشانی نہیں ہے۔ یہ حقیقی طبی کیفیات ہیں جن کا علاج اسی طرح ضروری ہے جیسے شوگر یا دل کے امراض کا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں ہر 8 میں سے 1 شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری سے متاثر ہے۔ جنگیں، بے گھری، مہنگائی، اور معاشرتی دباؤ نے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس عالمی دن پر ہمیں تین سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے:
1. خاندان کی سطح پر: اپنے گھر میں کھل کر بات کریں۔ اگر آپ کا بچہ، بیوی، شوہر یا والدین تنہائی پسند ہو گئے ہیں، نیند خراب ہے، چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے، یا زندگی میں دلچسپی ختم ہو رہی ہے، تو اسے "موج مستی" یا "ڈرامہ" کہہ کر نظر انداز نہ کریں۔ پیار سے سنیں، بغیر ججمنٹ کے۔ اور ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں مدد دیں۔
2. کمیونٹی کی سطح پر: ہمارے مذہبی رہنماؤں، مساجد، گرجا گھروں اور کمیونٹی مراکز کو چاہیے کہ وہ ایسے محفوظ ماحول بنائیں جہاں لوگ اپنی کہانی بلا خوف سنا سکیں۔ صرف 10 اکتوبر کو نہیں، بلکہ پورا سال ہمیں ماہرینِ نفسیات اور تجربہ کار افراد کو مدعو کرنا چاہیے۔
3. اپنی ذات کی سطح پر: اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔ کیا آپ اچھی نیند لے رہے ہیں؟ کیا آپ چلتے پھرتے ہیں؟ کیا آپ اپنے پیاروں سے جڑے ہوئے ہیں؟ اگر آپ دو ہفتوں سے زیادہ اداس، مایوس یا بے چین محسوس کر رہے ہیں تو مدد لینے میں شرم محسوس نہ کریں۔
اچھی ذہنی صحت کا مطلب ہر وقت خوش رہنا نہیں۔ اس کا مطلب ہے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے، بامقصد کام کرنے، اور اپنی کمیونٹی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہونا۔
آئیے آج عہد کریں کہ ہم حقیقی آوازوں کو سنیں گے، ان کی عزت کریں گے، اور انہیں حقیقی تبدیلی میں بدلیں گے۔ کیونکہ جب ہم ایک ذہن کو شفا دیتے ہیں، تو ہم ایک خاندان کو شفا دیتے ہیں۔ اور جب خاندان شفا پاتا ہے، تو پوری کمیونٹی شفا پاتی ہے۔
