
شکیل انجم ساون کا کالم: صفائی کرنے والے محنت کش بھی عزت اور انسانی وقار کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنا ہر دوسرا شہری۔
کبھی کبھی سوشل میڈیا پر کوئی ایسی تصویر یا چند سطریں سامنے آ جاتی ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد انسان فوراً آگے نہیں بڑھ پاتا۔
آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
وزیرآباد کے علاقے سے ایک خبر اور کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ ستھرا پنجاب سے وابستہ ایک ورکر کو مبینہ طور پر مرغا بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شائع شدہ رپورٹ میں علی پور چٹھہ کی یونین کونسل دلاور چیمہ کلاں کا ذکر ہے اور سپروائزر عثمان اکبر پر خاکروب نوید مسیح عرف کالی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کی تصاویر بھی وائرل ہوئی ہیں۔
میں یہاں ایک بات بہت واضح کرنا چاہتا ہوں۔
میں کسی سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے حق میں نہیں ہوں۔
اس واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات کے بعد ہی سامنے آنی چاہیے۔ اگر الزام درست ہے تو ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر الزام درست نہیں تو متعلقہ فریق کو بھی اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے کا پورا حق ہے۔
لیکن اس خبر نے میرے ذہن میں ایک اور سوال پیدا کر دیا ہے۔
آخر ہمارے معاشرے میں محنت کرنے والے انسان کی عزت اتنی سستی کیوں ہو گئی ہے؟
صفائی کرنے والا انسان ہے، صرف ایک ملازم نہیں
ہم روزانہ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔
سڑک صاف نظر آتی ہے۔
گلی سے کچرا اٹھ چکا ہوتا ہے۔
بازار میں صفائی ہو چکی ہوتی ہے۔
ہم شاید یہ سوچ کر بھی نہیں رکتے کہ یہ صفائی کس نے کی۔
ہم میں سے بہت سے لوگ صفائی کرنے والے کارکن کو صرف اس وقت محسوس کرتے ہیں جب صفائی نہ ہوئی ہو۔ لیکن جس دن وہ صبح سویرے اپنا کام مکمل کر کے ہماری گلی سے گزر جاتا ہے، ہم شاید اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔
وہ شخص بھی ہماری طرح ایک انسان ہے۔
اس کا بھی گھر ہے۔
اس کے بھی بچے ہیں۔
اسے بھی اپنی تنخواہ کا انتظار ہوتا ہے۔
اسے بھی بیماری ہوتی ہے۔
اسے بھی تھکن ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر اسے بھی عزتِ نفس حاصل ہے۔
ستھرا پنجاب کا نظام اور اس کے پیچھے موجود انسان
آج پنجاب میں صفائی کا ایک بہت بڑا نظام کام کر رہا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام 41 اضلاع اور 146 تحصیلوں تک پھیلا ہوا ہے اور اس سے تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار صفائی کارکن اور فیلڈ فورس وابستہ ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے اس تعداد کا تصور کریں۔
ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب انسان۔
یہ صرف ایک عدد نہیں۔
یہ ایک لاکھ اسی ہزار خاندانوں، گھروں، بچوں، والدین اور خوابوں کی کہانی بھی ہو سکتی ہے۔
ہم جب کسی بڑے صفائی پروگرام کی کامیابی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں گاڑیاں، مشینری، صفائی کے اوقات اور شکایتی نظام نظر آتے ہیں، مگر ان سب کے پیچھے اصل طاقت وہ انسان ہے جو اپنا جسم اور وقت استعمال کرکے یہ کام کرتا ہے۔
اسی لیے میرے نزدیک صفائی کے کسی بھی نظام کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس نظام میں کام کرنے والے انسان کتنی عزت اور تحفظ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
عہدہ بڑا ہو سکتا ہے، انسان بڑا نہیں ہوتا
میں نے زندگی میں یہ بات بارہا محسوس کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عہدہ انسان کے رویے کو بدل دیتا ہے۔
ایک شخص کے ہاتھ میں اختیار آ جائے تو بعض اوقات وہ بھول جاتا ہے کہ سامنے کھڑا شخص بھی اسی خدا کی مخلوق ہے جس کا وہ خود ہے۔
افسر اور ملازم کے درمیان عہدے کا فرق ضرور ہو سکتا ہے۔
لیکن انسان ہونے میں کوئی فرق نہیں۔
اگر کسی ملازم سے غلطی ہوئی ہے تو ادارے کے پاس ضابطے ہونے چاہئیں۔
اگر کوئی کام ٹھیک نہیں کر رہا تو اسے سمجھایا جا سکتا ہے۔
اگر مسلسل غفلت ہے تو محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔
لیکن کسی انسان کی تذلیل کرنا، اسے ذلت آمیز انداز میں سزا دینا یا مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے سوال بن جاتا ہے۔
اور اگر وزیرآباد کا یہ واقعہ تحقیقات کے بعد درست ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف ایک ملازم کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی نہیں ہوگی۔
یہ ہمارے انتظامی رویوں کے لیے بھی ایک لمحۂ فکریہ ہوگا۔
نوید مسیح کا نام پڑھتے ہوئے میں ایک لمحے کو رک گیا
رپورٹ میں جس محنت کش کا نام نوید مسیح عرف کالی بتایا گیا ہے، میں اسے ذاتی طور پر نہیں جانتا۔
لیکن نام پڑھنے کے بعد میں نے ایک لمحے کے لیے یہ سوچا کہ وہ گھر سے کس طرح نکلا ہوگا؟
کیا اس کے بچے اسے کام پر جاتے دیکھتے ہوں گے؟
کیا اس کے گھر میں بھی مہینے کے آخر میں راشن، بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور دوسری ضروریات کی فکر ہوتی ہوگی؟
یقیناً میں اس کی زندگی کے بارے میں قیاس نہیں کر سکتا۔
لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ ایک انسان ہے، اور کسی انسان کی عزت اس کی ملازمت کے عہدے سے طے نہیں ہوتی۔
اگر اس کے ساتھ واقعی وہی کچھ ہوا ہے جو خبر میں بیان کیا گیا ہے تو مجھے اس کے لیے دلی افسوس ہے۔
اور اگر تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ واقعہ مختلف تھا تو پھر بھی ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی شخص کی عزت کو سوشل میڈیا کی افواہوں کی بنیاد پر مجروح کرنا بھی درست نہیں۔
انصاف دونوں صورتوں میں ضروری ہے۔
سینٹری ورکرز کے مسائل صرف ایک واقعے تک محدود نہیں
یہاں ایک اور بات بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔
سینٹری ورکرز اور صفائی کے کارکنوں کے مسائل صرف عزتِ نفس تک محدود نہیں۔ تنخواہوں، ملازمت کے تحفظ، کام کے حالات اور دیگر مسائل بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ڈان نے ستھرا پنجاب سے وابستہ کارکنوں کے ایک احتجاج کی رپورٹ شائع کی، جس میں ملازمتوں کے خاتمے اور واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق دعوے سامنے آئے تھے، جبکہ پروگرام کی جانب سے ان میں سے بعض کارکنوں کو اپنا ملازم نہ ہونے کا مؤقف بھی بیان کیا گیا۔
جولائی ہی میں گوجرانوالہ سے ستھرا پنجاب کے ایک کارکن کی موت کی خبر بھی سامنے آئی، جس میں تنخواہ سے متعلق تنازع اور کارکن کی انتہائی مایوسی کا ذکر کیا گیا۔ اس معاملے میں بھی مختلف فریقوں کے مؤقف موجود تھے۔
میں ان واقعات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتا۔
لیکن یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ محنت کشوں کی شکایات کو سننے کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ستھرا پنجاب کے سرکاری شکایتی نظام میں "Staff Related Issues" اور "Workers/Staff Job & Payroll Issues" کے لیے بھی شکایت درج کرنے کی سہولت موجود ہے، جبکہ 1139 ہیلپ لائن بھی فراہم کی گئی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سہولت صرف ویب سائٹ پر موجود ایک آپشن نہ ہو بلکہ ایک ایسا مؤثر راستہ ہو جہاں ایک عام ورکر اپنی بات بغیر خوف کے پہنچا سکے۔
میں کسی کے خلاف نہیں، انسان کے حق میں ہوں
شاید میرے اس کالم کو کوئی شخص کسی افسر کے خلاف تحریر سمجھے۔
ایسا نہیں ہے۔
میں کسی فرد کے خلاف ذاتی مہم چلانے کے حق میں نہیں۔
میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہونی چاہیے۔
جس کے پاس اختیار ہے، اس کے الفاظ اور رویہ زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
اور جس کے پاس اختیار نہیں، اس کی عزت بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔
میں ایک انسان کی حیثیت سے یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں اختلاف، غلطی اور شکایت کے لیے بہت سے راستے موجود ہیں۔
تشدد اور تذلیل ان راستوں میں شامل نہیں ہونے چاہئیں۔
اگر الزام غلط ہے تو سچ سامنے آنا چاہیے
یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے۔
سوشل میڈیا آج کسی بھی تصویر یا ویڈیو کو چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔
ایک الزام پھیلنے میں چند سیکنڈ لگتے ہیں، مگر کسی شخص کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان بہت دیر تک رہ سکتا ہے۔
اس لیے میں متعلقہ اداروں سے یہ بھی توقع رکھتا ہوں کہ اگر اس معاملے کی حقیقت مختلف ہے تو وہ بھی واضح طور پر سامنے آئے۔
ہمیں انصاف چاہیے، سوشل میڈیا کی عدالت نہیں۔
اور اگر تحقیقات کے بعد الزام درست ثابت ہوتا ہے تو پھر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کسی محنت کش کو یہ خوف نہ رہے کہ اس کی مجبوری اس کی کمزوری سمجھی جائے گی۔
ایک بہتر پاکستان کا آغاز کہاں سے ہوگا؟
ہم اکثر عالمی امن کی بات کرتے ہیں۔
ہم جنگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
ہم انسانیت، مساوات اور بھائی چارے کی بات کرتے ہیں۔
لیکن عالمی امن صرف بڑے ملکوں کے سربراہوں کی میز پر نہیں بنتا۔
میرے نزدیک امن کا آغاز ہمارے اپنے رویے سے ہوتا ہے۔
گھر میں۔
محلے میں۔
دفتر میں۔
بازار میں۔
اور اس جگہ بھی جہاں ایک افسر اپنے ماتحت سے بات کر رہا ہو۔
اگر ہم ایک کمزور انسان کے ساتھ عزت سے پیش نہیں آ سکتے تو پھر عالمی امن کے بڑے بڑے خواب بھی ادھورے رہیں گے۔
انسانیت کسی عہدے کی محتاج نہیں۔
آخر میں صرف ایک بات
میں نہیں جانتا کہ وزیرآباد سے سامنے آنے والی اس خبر کی آخری حقیقت کیا ہے۔
اس کا فیصلہ تحقیق کرے گی۔
لیکن اس خبر نے مجھے ایک بات ضرور سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
ہمیں اپنے شہر صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رویے بھی صاف رکھنے ہوں گے۔
جو شخص ہماری گلیوں سے کچرا اٹھاتا ہے، وہ خود کچرا نہیں۔
جو شخص ہمارے شہر کو صاف کرتا ہے، وہ خود کسی سے کمتر نہیں۔
اس کے ہاتھ شاید ہمارے ہاتھوں سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔
اس کے کپڑے شاید ہمارے کپڑوں سے زیادہ گندے ہوتے ہیں۔
لیکن اس کا انسانی وقار ہمارے وقار سے کم نہیں۔
اور شاید ایک بہتر پاکستان کی طرف ہمارا اگلا قدم یہی ہو سکتا ہے کہ ہم ہر اس انسان کو عزت دینا شروع کریں جسے معاشرہ عموماً نظر انداز کر دیتا ہے۔
کیونکہ جو معاشرہ اپنے کمزور انسان کی عزت کرنا سیکھ جاتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مہذب معاشرہ بنتا ہے۔
— شکیل انجم ساون