تازہ ترین
ٹرینڈنگ

ساہیوال کی 17 سالہ علیشبہ نذیر انتقال کر گئیں، سی ٹی ایس کا انصاف کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

·

 

Christians True Spirit statement on Alishba Nazir and the pursuit of justice in Sahiwal
علیشبہ نذیر کے انتقال پر کرسچنز ٹرو اسپرٹ کا اظہارِ افسوس اور انصاف کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان۔

لاہور (نوائے مسیحی نیوز) پاکستان میں مسیحی برادری کے حقوق اور متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے کام کرنے والے ادارے کرسچنز ٹرو اسپرٹ (سی ٹی ایس) نے پناہ شیلٹر ہوم میں مقیم 17 سالہ علیشبہ نذیر کے انتقال کی افسوس ناک خبر جاری کی ہے۔ ادارے کے مطابق علیشبہ 9 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر انتقال کر گئیں۔ ان کی موت پر ادارے نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔

علیشبہ نذیر کی زندگی کے آخری مہینے

سی ٹی ایس کی جانب سے 9 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ بیان کے مطابق، علیشبہ نذیر ساہیوال کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں اور ذہنی و فکری معذوری کی حامل تھیں۔ ادارے کے مطابق، انہیں ایک پڑوسی کی جانب سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران سی ٹی ایس نے علیشبہ اور ان کے خاندان کا ساتھ دیا اور انہیں رہائش، قانونی معاونت اور انصاف کے حصول کے لیے مدد فراہم کی۔

یہ معاملہ کم عمر اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے تحفظ، جنسی تشدد کے متاثرین کی معاونت اور انصاف تک رسائی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

طبی پیچیدگیوں کے باعث حالت تشویش ناک ہو گئی

سی ٹی ایس کے مطابق، ستمبر کے آخری دنوں میں علیشبہ کو شدید درد کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں ساہیوال کے ایک سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں معائنے کے دوران حمل سے متعلق سنگین طبی پیچیدگیوں کا پتا چلا۔

ادارے کے بیان کے مطابق، طبی عملے کی کوششوں کے باوجود یکم اکتوبر 2026 کو ان کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ہوئی۔ آپریشن کے بعد علیشبہ کی حالت تشویش ناک رہی، انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، لیکن وہ دوبارہ ہوش میں نہ آ سکیں۔

بالآخر 9 اکتوبر کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس نے ان کے خاندان اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کو غم زدہ کر دیا۔

سی ٹی ایس کا انصاف کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

کرسچنز ٹرو اسپرٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ علیشبہ کی وفات ان کے خاندان اور ان تمام افراد کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جنہوں نے ان کی زندگی کے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

ادارے نے واضح کیا کہ وہ علیشبہ کے خاندان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور جاری قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف کے حصول کی کوشش جاری رکھے گا۔ سی ٹی ایس کے مطابق، اس کا مقصد ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنانے کی کوشش کرنا اور اس معاملے کو فراموش نہ ہونے دینا ہے۔

یہ اعلان اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے کہ جنسی تشدد کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کو صرف ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ قانونی کارروائی کے دوران بھی مسلسل معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔

متاثرہ افراد کے تحفظ اور معاونت کی ضرورت

علیشبہ کا معاملہ اس سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ معاشرے میں کم عمر اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کو تشدد، استحصال اور زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے کس قدر مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

متاثرہ افراد کو محفوظ رہائش، بروقت طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور قانونی مدد تک رسائی ملنی چاہیے۔ خاندانوں اور متعلقہ اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایسے حساس معاملات میں متاثرہ فرد کی عزت، رازداری اور تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔

جنسی تشدد کے واقعات میں انصاف کا تقاضا ہے کہ تحقیقات شفاف اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہوں، جبکہ متاثرہ خاندان کو غیر ضروری دباؤ اور بدنامی سے محفوظ رکھا جائے۔

سوگوار خاندان کے لیے دعاؤں کی اپیل

سی ٹی ایس نے اپنے دوستوں، معاونین اور شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ علیشبہ نذیر اور ان کے غم زدہ خاندان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

ادارے نے بائبل مقدس کی انجیل متی 5:4 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:

”مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔“

علیشبہ نذیر کی وفات ایک کم عمر زندگی کے المناک اختتام کی خبر ہے۔ ان کے خاندان کے لیے یہ وقت گہرے غم کا ہے، جبکہ ان کے معاملے میں جاری قانونی کارروائی اور انصاف کے حصول کی کوششیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔

ادارتی نوٹ: یہ خبر کرسچنز ٹرو اسپرٹ کے 9 اکتوبر 2026 کے فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے سے متعلق الزامات اور قانونی کارروائی کی تفصیلات کو متعلقہ مستند ذرائع سے الگ طور پر تصدیق شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔