نادرا دستاویزات مسترد، نابالغ بچیوں کے جبری نکاح پر تشویش — ایم پی اے اعجاز عالم اگسٹن کی پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا



 لاہور (رپورٹ: ناصر رضا)

پنجاب اسمبلی کے رکن اعجاز عالم اگسٹن نے نابالغ بچیوں کے جبری نکاح کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں میں جب نادرا کے جاری کردہ ب فارم اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) جیسے مستند ریکارڈ پیش کیے جاتے ہیں تو انہیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق حالیہ آئینی عدالت کے فیصلے میں بھی نادرا کی کسی دستاویز کو قابلِ قبول نہیں سمجھا گیا، جس سے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نادرا کی دستاویزات کو بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا تو پھر شہری کس ادارے کی تصدیق پیش کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، خصوصاً ایسے حساس معاملات میں جہاں کمسن بچیوں کے حقوق اور مستقبل داؤ پر لگے ہوں۔

اعجاز عالم اگسٹن نے اس اہم مسئلے پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروا دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نادرا کو طلب کیا جائے تاکہ اس صورتحال کی وضاحت کی جا سکے اور ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور قانونی عمل میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے سنگین سماجی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ معصوم بچیوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

Comments

Show discipline and civility while commenting and don't use rude words. Thanks for your cooperation

جدید تر اس سے پرانی