
پوپ لیو چہاردہم کے کامیاب آپریشن کے بعد دنیا بھر کے مسیحی ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
روم (نوائے مسیحی نیوز): کلیسیا کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم کے پھیپھڑوں میں کینسر کی تشخیص اور کامیاب آپریشن کی خبر نے دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ویٹی کن کی جانب سے جاری طبی اعلامیے کے مطابق 71 سالہ پوپ کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوپ لیو چہاردہم اپنی معمول کی مذہبی اور کلیسیائی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ بظاہر صحت مند دکھائی دینے والے روحانی پیشوا کی بیماری نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھی ہے کہ انسان کی ظاہری صحت کے باوجود زندگی میں ایسے لمحے آ سکتے ہیں جو اسے اپنی کمزوری اور دوسروں کی دعاؤں کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔
معمول کے طبی معائنے کے دوران رسولی کا انکشاف
ویٹی کن کے مطابق پوپ لیو چہاردہم کے پھیپھڑے میں موجود رسولی کا پتا معمول کے طبی معائنے کے دوران چلا۔ ابتدائی طور پر اس رسولی کے بارے میں مزید جانچ کی گئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا۔
اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں روایتی دعائیہ تقریب کے بعد پوپ نے خود اپنے آپریشن کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پھیپھڑے میں موجود رسولی محدود تھی اور اس کی نشاندہی ابتدائی مرحلے میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے نکالنے کی سفارش کی تھی۔
بعد ازاں طبی معائنے کے نتائج میں پھیپھڑوں کے سرطان کی ایک قسم، پلمونری ایڈینوکارسینوما، کی تصدیق ہوئی۔ یہ تشخیص آپریشن سے پہلے کیے گئے طبی ٹیسٹوں کے خدشات کے مطابق تھی۔
کامیاب آپریشن، مزید طبی جانچ جاری
ویٹی کن کے طبی اعلامیے کے مطابق منگل کے روز روم کے جیمیلی ہسپتال میں پوپ لیو چہاردہم کا تقریباً 90 منٹ طویل آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے دائیں پھیپھڑے کا پورا نچلا حصہ نکالا تاکہ رسولی کو مکمل طور پر دور کیا جا سکے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ آپریشن کامیاب رہا اور کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔ آپریشن کے بعد پوپ معمول کے مطابق ہوش میں آئے اور مختصر مشاہدے کے بعد انہیں ان کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔
سرطان کے پھیلاؤ سے متعلق مزید جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بیماری کے حوالے سے تمام خدشات ختم ہو چکے ہیں، تاہم آپریشن کی کامیابی اور رسولی کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
پوپ کو صحت یابی کے لیے تقریباً ایک ہفتہ ہسپتال میں رہنے کی توقع ہے، جبکہ ان کی مصروفیات 20 اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ہسپتال کے باہر دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار
پوپ کی ہسپتال آمد کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ کئی گھنٹے انتظار کرتے رہے۔ ان میں کیتھولک مسیحی راہبائیں اور عام شہری بھی شامل تھے۔ جب پوپ کی گاڑی ہسپتال پہنچی تو لوگوں نے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا اور صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پوپ نے گاڑی کی پچھلی کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر لوگوں کے جذبات کا جواب دیا۔ ہسپتال کے داخلی حصے میں عملے نے بھی ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ایک شخص نے افسوس کا اظہار کیا تو پوپ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، جبکہ ایک دوسرے فرد نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔
یہ مناظر اس تعلق کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک روحانی پیشوا اور اس سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ بیماری کی خبر نے لوگوں کو پریشان ضرور کیا، لیکن اس موقع پر محبت، ہمدردی اور دعاؤں کا اظہار بھی نمایاں رہا۔
کارڈینل پارولین کا ردعمل
ویٹی کن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پارولین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر غیر متوقع تھی اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ ان کے مطابق کارڈینلز نے پوپ کے پُرسکون رویے کو محسوس کیا اور ان کی صحت یابی کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
ٹوکیو کے کارڈینل کیکوچی تارسیسیو ایساؤ نے بھی سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے پیر کے روز پوپ سے ملاقات کی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق پوپ نے جسمانی طور پر کسی خرابی کا احساس ظاہر نہیں کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پوپ نے آپریشن جلد کروانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا کہ نومبر کے آغاز میں ان کا لاطینی امریکا کا دورہ متوقع ہے۔ اس دورے میں پیرو کا سفر بھی شامل ہے، جہاں وہ کئی برس مشنری اور بعد ازاں بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
بیماری کی خبر نے دنیا بھر کے مسیحیوں کو فکر مند کر دیا
پوپ کی بیماری کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہسپتال کے باہر موجود افراد نے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے اور انتظار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوپ پُرسکون دکھائی دیتے ہیں، اس لیے وہ بھی پُرسکون رہنے کی کوشش کر رہی ہیں، اگرچہ بیماری ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ جب پوپ نے خود اپنی بیماری کے بارے میں اعلان کیا تو وہ یہ خبر سن کر بہت پریشان ہو گئی تھیں۔
یہ ردعمل اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ روحانی رہنما بھی انسان ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں بڑی ہو سکتی ہیں، لاکھوں لوگ ان سے وابستگی رکھتے ہوں، لیکن بیماری اور کمزوری انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔
دعا، امید اور صحت یابی کی خواہش
پوپ لیو چہاردہم کے کامیاب آپریشن کی خبر اطمینان کا باعث ضرور ہے، تاہم ان کی مکمل صحت یابی اور سرطان سے متعلق مزید طبی نتائج کا انتظار باقی ہے۔ ایسے وقت میں غیر مصدقہ دعووں کے بجائے ویٹی کن کے مستند طبی اعلامیوں پر اعتماد کرنا ضروری ہے۔
دنیا بھر کے مسیحی پوپ کی جلد صحت یابی، مکمل بحالی اور آئندہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے دعا کر سکتے ہیں۔ بیماری کے یہ لمحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں صحت، محبت، امید اور ایک دوسرے کا ساتھ کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
نوائے مسیحی پوپ لیو چہاردہم کی صحت سے متعلق مصدقہ معلومات اپنے قارئین تک پہنچانے کے لیے ویٹی کن کے آئندہ اعلانات کا انتظار کرے گا۔ ان کی صحت یابی کے بارے میں حتمی رائے مزید طبی معلومات سامنے آنے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔